خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 335
خطبات مسرور جلد 15 335 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 خواہش محض اس غرض کے لئے نہ ہو کہ وہ دیندار اور متقی ہو اور خدا تعالیٰ کی فرمانبر دار ہو کر اس کے دین کی خادم بنے بالکل فضول بلکہ ایک قسم کی معصیت اور گناہ ہے اور باقیات صالحات کی بجائے اس کا نام باقیات سیٹنات رکھنا جائز ہو گا۔" نیک صالح اولاد نہیں ہو گی جو پیچھے رہنے والی ہو بلکہ برائیاں کرنے والی چیز پیچھے چھوڑ کے جائیں۔فرمایا لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں صالح اور خدا ترس اور خادم دین اولاد کی خواہش کرتا ہوں " بڑی اچھی خواہش ہے تو اس کا یہ کہنا بھی نرا ایک دعوی ہی دعویٰ ہو گا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں ایک اصلاح نہ کرے۔" خواہش تو نیک اولاد کی ہو لیکن خود اپنے عمل اس سے مختلف ہوں۔بہت سارے لوگ ہیں، آتے ہیں اور کہتے ہیں دعا کریں۔نیک اولاد ہو۔صالح اولا د ہو۔اپنی نمازوں کے بارے میں یہی ان کا جواب ہوتا ہے کہ کوشش کرتے ہیں کہ پوری نمازیں پڑھیں۔جنہوں نے فرائض نماز بھی ادا نہیں کرنے ان کی نیکی کی کیا حالت ہو سکتی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " اگر خود فسق و فجور کی زندگی بسر کرتا ہے اور منہ سے کہتا ہے کہ میں صالح اور متقی اولاد کی خواہش کرتا ہوں تو وہ اپنے اس دعویٰ میں کذاب ہے۔" جھوٹا ہے۔" صالح اور متقی اولاد کی خواہش سے پہلے ضروری ہے کہ وہ خود اپنی اصلاح کرے اور اپنی زندگی کو متقیانہ زندگی بناوے تب اس کی ایسی خواہش ایک نتیجہ خیز خواہش ہو گی اور ایسی اولاد حقیقت میں اس قابل ہو گی کہ اس کو باقیات صالحات کا مصداق کہیں۔لیکن اگر یہ خواہش صرف اس لئے ہو کہ ہمارا نام باقی رہے اور وہ ہمارے املاک و اسباب کی وارث ہو یاوہ بڑی نامور اور مشہور ہو اس قسم کی خواہش " آپ فرماتے ہیں "میرے نزدیک شرک ہے۔۔پھر اس کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ " ایک اور بات ہے کہ اولاد کی خواہش تو لوگ بڑی کرتے ہیں اور اولاد ہوتی بھی ہے مگر یہ کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ اولاد کی تربیت اور ان کو عمدہ اور نیک چلن بنانے اور خدا تعالیٰ کے فرمانبردار بنانے کی سعی اور فکر کریں۔نہ کبھی ان کے لئے دعا کرتے ہیں اور نہ مراتب تربیت کو مد نظر رکھتے ہیں۔" دعا کی طرف بھی بہت کم توجہ ہے۔تربیت کی طرف جو توجہ ہونی چاہئے وہ بھی نہیں ہے۔فرمایا کہ "میری اپنی تو یہ حالت ہے " اپنے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ " میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں میں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔" فرمایا کہ " بہت سے والدین ایسے ہیں جو اپنی اولاد کو بری عادتیں سکھا دیتے ہیں۔ابتدا میں جب وہ بدی کرنا سیکھنے لگتے ہیں تو ان کو تنبیہ نہیں کرتے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ دن بدن دلیر اور بیباک ہوتے جاتے ہیں۔اگر اولاد کو شروع میں نہیں روکیں گے ، ان کو نہیں سمجھائیں گے۔شروع شروع میں پیار سے بھی سمجھایا جاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ وہ برائیوں میں بڑھتی چلی جاتی ہے۔پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " لوگ اولاد کی خواہش تو کرتے ہیں مگر نہ "