خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 334
خطبات مسرور جلد 15 334 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 کے بعد بھی ان کے کام ختم نہیں ہو جاتے بلکہ ماں بھی اور باپ بھی بیوی بھی اور خاوند بھی اپنے اپنے دائرے میں نگران اور امام ہیں۔اور یہ حق اسی وقت ادا ہو گا جب خود بھی تقویٰ پر چلنے والے ہوں گے اور بچوں کے لئے دعا کرنے والے ہوں گے اور اپنے اعمال کو بھی دیکھنے والے ہوں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس آیت کے حوالے سے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : " نکاح سے ایک اور غرض بھی ہے جس کی طرف قرآن کریم میں یعنی سورۃ الفرقان میں اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إمَامًا ( الفرقان: 75) یعنی مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا ہمیں اپنی بیویوں کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزند نیک بخت ہوں اور ہم ان کے پیش رو ہوں۔" (آریہ دھرم، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 23) پس یہاں پھر آپ نے ماں باپ کو اس دعا کے ساتھ اپنے عمل دکھانے کی ہدایت فرما دی کہ ہم ان کے پیش رو ہوں۔پیش رو ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم عملی نمونے قائم کرنے والے بنیں۔پس قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بار بار ہر دعا کے ساتھ اس بات کا اعادہ اور تلقین فرماتا ہے کہ اگر تمہیں صالح اولاد کی خواہش ہے تو اپنے عملوں کی طرف نظر رکھو۔پھر اس بات کے ذکر میں کہ اولاد کی خواہش کیوں ہوتی ہے اور کیوں ہونی چاہئے اور انسان کی پیدائش کا جو مقصد ہے اس کو بھی اولاد کی خواہش کرتے ہوئے سامنے رکھنا چاہئے یا اولاد کی پیدائش کے وقت بھی سامنے رکھنا چاہئے اور اپنے اعمال پر بھی نظر رکھنی چاہئے ، اپنی اصلاح کی بھی فکر ہونی چاہئے تا کہ اولاد بھی نیک صالح ہو ، نہ کہ صرف دولت اور املاک کی وارث بنانے کے لئے اولاد پیدا کی جائے۔اور یہ دعا کس ترتیب سے اور کس طرح کرنی چاہئے ، ان سب باتوں کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : انسان کو سوچنا چاہئے کہ اسے اولاد کی خواہش کیوں ہوتی ہے؟ کیونکہ اس کو محض طبعی خواہش ہی تک محدود نہ کر دینا چاہئے کہ جیسے پیاس لگتی ہے یا بھوک لگتی ہے۔لیکن جب یہ ایک خاص اندازہ سے گزر جاوے تو ضرور اس کی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے۔خدا تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔ما خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 57 ) اب اگر انسان خود مومن اور عبد نہیں بنتا ہے اور اپنی زندگی کے اصل منشاء کو پورا نہیں کرتا ہے اور پورا حق عبادت ادا نہیں کرتا بلکہ فسق و فجور میں زندگی بسر کرتا ہے اور گناہ پر گناہ کرتا ہے تو ایسے آدمی کی اولاد کے لئے خواہش کیا نتیجہ رکھے گی۔صرف یہی کہ گناہ کرنے کے لئے وہ اپنا ایک اور خلیفہ چھوڑنا چاہتا ہے۔خود کو نسی کمی کی ہے جو اولاد کی خواہش کرتا ہے۔" فرمایا" پس جب تک اولاد کی