خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 333
خطبات مسرور جلد 15 قدر کوشش اس امر میں کرو۔" 333 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 109) اولاد کو دین سکھانے اور دین سے منسلک رکھنے کے لئے ، ان کی دینی تربیت کی طرف کم از کم اتنی کوشش تو انسان کی ہو جتنی دنیاوی کوششیں ہوتی ہیں۔دنیا کی طرف زیادہ کوشش ہوتی ہے اور دین کی طرف بہت کم کوشش۔اسی وجہ سے پھر بعض لوگوں کو ابتلاء بھی آتے ہیں۔مشکلات میں بھی پڑتے ہیں۔(ملفوظات جلد 8 صفحہ 110) پھر آپ فرماتے ہیں کہ لوگوں کو اولاد کی خواہش ہوتی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ "بعض اوقات صاحب جائید ادلوگوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ کوئی اولاد ہو جاوے جو اس جائیداد کی وارث ہو۔" گویا کہ اولاد کی خواہش صرف جائیداد کے لئے ہے " تاکہ " جائیداد " غیروں کے ہاتھ میں نہ چلی جاوے۔" آپ فرماتے ہیں "مگر وہ نہیں جانتے کہ جب مر گئے تو شر کاء کون اور اولاد کون۔۔۔سبھی غیر بن جاتے ہیں۔پھر فرمایا کہ " اولاد کے لئے اگر خواہش ہو تو اس غرض سے ہو کہ وہ خادمِ دین ہو۔" پھر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں یہ بھی دعا سکھائی کہ وَاَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِنِي إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَانّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (الاحقاف: 16 ) کہ میرے لئے میری ذریت کی بھی اصلاح کر دے۔یقیناً میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور بلا شبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔یہاں اولاد کی اصلاح کرنے کی دعا کی ہے تو ساتھ اس بات کا بھی اقرار کیا ہے کہ میں تیری طرف رجوع کرنے والوں اور فرمانبر داروں میں سے بنوں یا ہوں۔پس اولاد کے لئے جب دعا ہو تو اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل اور اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبر داری ضروری ہے تبھی دعا قبول ہوتی ہے۔پس ماں کی بھی اور باپ کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی اصلاح کے لئے، ان کی تربیت کے لئے مستقل اللہ تعالیٰ سے اپنی اولاد کی بہتری کے لئے دعا مانگتے رہیں اور اپنے نمونے اولاد کے لئے قائم کریں۔اگر اپنے نمونے اس تعلیم کے خلاف ہیں جو اللہ تعالیٰ نے دی ہے، اگر اپنے نمونے اس نصیحت کے خلاف ہیں جو ماں باپ بچوں کو کرتے ہیں تو پھر اصلاح کی دعا میں نیک نیتی بھی نہیں ہوتی۔اور جب اس طرح کا عمل نہ ہو تو پھر یہ شکوہ بھی غلط ہے کہ ہم نے اپنی اولاد کے لئے بہت دعا کی تھی لیکن پھر بھی وہ بگڑ گئی یا ہمیں ابتلاء میں ڈال دیا۔پھر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ایک بڑی جامع دعا بیان فرماتا ہے کہ وہ لوگ جو شیطان کے حملوں سے بچنا چاہتے ہیں اور بچتے ہیں، جو رحمان خدا کے بندے بنا چاہتے ہیں ان کی جو بعض خصوصیات ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ یہ دعا کرتے ہیں کہ ربَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إمَامًا (الفرقان: 75) کہ اے ہمارے رب ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولا د سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر اور ہمیں متقیوں کا امام بنادے۔یہ دعا اولاد کے لئے اور اپنے جیون ساتھیوں کے لئے مر دوں کو بھی کرنی چاہئے اور عورتوں کو بھی۔جب عورت اور مرد نیک اور صالح اولاد کی خواہش رکھتے ہوئے دعا کرتے ہیں تو پھر اولاد کی پیدائش