خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 332
خطبات مسرور جلد 15 332 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 کرنے کی ضرورت ہے۔قرآن کریم میں حضرت زکریا کے حوالے سے سورۃ الانبیاء میں اس دعا کا بھی ذکر ملتا ہے کہ ربّ لا تَذَرْنِي فَرْدًا وَ أَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ (الانبیاء: 90) کہ اے میرے رب مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب وارثوں سے بہتر ہے۔اس دعا میں بھی جب اللہ تعالیٰ کو خیر الوارثین کہا ہے تو واضح ہے کہ اولاد کی دعا صرف اس لئے نہیں کہ اولاد ہو جائے اور وارث پیدا ہو جائیں جو دنیاوی معاملات کے وارث ہوں بلکہ ایسے وارث اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوں جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہوں اور ظاہر ہے ایسی دعا وہی لوگ مانگ سکتے ہیں جو خود بھی دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والے ہیں۔اگر دنیا داری میں انسان ڈوبا ہوا ہے تو نیک وارث کس طرح مانگے گا۔اگر کوئی عورت صرف اس لئے اولاد کی خواہش کر رہی ہے کہ عورت کا اولاد کی خواہش کرنا ایک فطری تقاضا ہے یا پھر بعض اوقات اس لئے خواہش کر رہی ہے کہ خاوند کی خواہش ہوتی ہے تو ایسی اولاد پھر بعض دفعہ ابتلا کا موجب بن جاتی ہے۔اولاد کی خواہش بڑی جائز خواہش ہے لیکن ساتھ ہی نیک وارث پیدا ہونے کی بھی دعا کرنی چاہیئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اولاد کی خواہش صرف وارث بنانے کے لئے نہ کرو بلکہ نیک، صالح اور خادم دین وارث بنانے کے لئے کرو ورنہ اولاد بھی ابتلاء کا باعث بن سکتی ہے، ایک موقع پر فرماتے ہیں کہ : اولاد کا ابتلا بھی بہت بڑا ابتلا ہے۔اگر اولاد صالح ہو تو پھر کس بات کی پر واہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّلِحِينَ (الاعراف: 197) یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولی اور متکفل ہو تا ہے۔" انسان " اگر بد بخت ہے تو خواہ لاکھوں روپیہ اس کے لئے چھوڑ جاؤ یا اولا د بد بخت ہے تو لاکھوں روپیہ اس کے لئے چھوڑ جاؤ وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لئے لازمی ہیں۔جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشاء سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رائے اور منشا کیا ہے؟ یہی کہ دین کو دنیا پر مقدم کرو۔اگر یہ ہو گا تو پھر آپ نے فرمایا کہ اولاد کی طرف سے پھر مطمئن ہو جاتا ہے کیونکہ پھر ایسا انسان اپنی اولاد کے لئے دعا بھی کرتا ہے اور اس کی تربیت کی کوشش بھی کرتا ہے۔آپ فرماتے ہیں " اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لئے کوشش کرے اور دعائیں کرے۔اس صورت میں خود اللہ تعالیٰ اس کا تکفل کرے گا اور اگر بد چلن ہے تو جائے جہنم میں۔اس کی پر واہ تک نہ کرے۔۔۔" پھر ایک جگہ آپ اسی اولاد کے ضمن میں اسی مضمون کو جاری رکھتے ہوئے نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : " پس خود نیک بنو اور اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لئے سعی اور دعا کرو۔جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی