خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 331
331 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 خطبات مسرور جلد 15 والی تو بہ بس یہ ہے کہ بے دینی چھوڑ دو۔حلال کھاؤ۔نماز روزے کے پابند ہو جاؤ اور مسجد میں زیادہ آیا کرو۔کہتے ہیں یہ سن کر میں نے ایسا کرنا شروع کر دیا۔شراب چھوڑ دی۔رشوت لینی بند کر دی۔نماز روزے کا پابند ہو گیا۔کہتے ہیں چار پانچ مہینے کا عرصہ گزرا ہو گا کہ ایک دن میری بڑی بیوی رونے لگی۔خیر اس کو دائی سے چیک کروایا تو اس نے جو بات کی اور وہ اس طرف شک کا اظہار تھا کہ شاید اولاد ہونے والی ہے۔بہر حال اس کی بات سن کر میں نے اس سے کہا کہ میں نے مرزا صاحب سے دعا کروائی ہے۔یہ اولاد ہونے کی نشانی ہے۔شک والی کوئی بات نہیں۔کہتے ہیں کچھ عرصہ بعد حمل کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے تو میں نے لوگوں کو بتانا شروع کر دیا کہ میرے بیٹا پیدا ہو گا اور صحتمند اور خوبصورت بھی ہو گا۔چنانچہ بیٹا پیدا ہوا۔اور کہتے ہیں اس کے بعد میں نے بیعت کر لی اور اس علاقے کے بہت سے اور لوگوں نے بھی بیعت کی۔(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 1 صفحه 220-221 روایت نمبر 241) تو اللہ تعالیٰ کسی کا انجام بخیر کرنا چاہتا ہے تو اس طرح بھی ہوتا ہے کہ اولاد کی خواہش اور اولاد ہونا ان کی اصلاح اور پاک تبدیلی کا باعث بن گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی دعا کی قبولیت کو ان میں پاک تبدیلی کے ساتھ مشروط کیا تھا۔تو بہر حال جہاں زکریا کی دعا ہم اپنی اولاد کے لئے کرتے ہیں وہاں ہمیں اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے۔لیکن اس ضمن میں یہ بھی بتادوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک اور معاملہ پیش ہوا کہ وہ کہتا ہے کہ میرے لئے دعا کریں بیٹا پیدا ہو یا اولاد ہو تب میں احمدی ہو جاؤں گا۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا۔خلاصہ یہ ہے کہ میرا دعویٰ مسیح موعود ہونے کا ہے۔میں نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ لوگوں کے ہاں بچے پیدا کر وانے کے لئے میں آیا ہوں۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 9 صفحہ 115) شخص کا اس کے حالات بالکل مختلف تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو بہر حال نبی تھے ان کی نظر اس کے بارہ میں وہاں تک پہنچی کہ یہ شرط ایسی ہے کہ جو ٹھو کر کا بھی موجب ہو سکتی ہے لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے اس شخص کا انجام بخیر بھی کرنا تھا اور کوئی نیکی بھی ہو گی تو یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کر کے اللہ تعالیٰ سے خبر پاکے اس کو بیٹے کی خبر بھی دے دی۔یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ ہر چیز کو ہر چیز سے مشروط نہیں کیا جاتا۔احمدی ہونے کو دعا سے مشروط نہیں کیا جاتا۔بعض دفعہ لوگ مجھے بھی لکھتے ہیں کہ یہ ہو گا تو تب ہم احمدی ہوں گے۔تو شر طیں لگا کے احمدی ہونا کوئی دین کو قبول کرنے والی بات نہیں ہے بلکہ اپنی شرائط پر اللہ تعالیٰ کو منوانا ہے۔اور اللہ تعالیٰ تو کسی کی شرطوں پر کسی کی ہدایت کا سامان پیدا نہیں کرتا۔ہمیں ہدایت پہ چلنے کی ضرورت ہے نہ کہ اللہ تعالی کو ہماری۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ جہاں ہم اپنی اولاد کے لئے دعا کرتے ہیں وہاں ہمیں اپنے اندر بھی پاک تبدیلی پیدا