خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 7 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 7

خطبات مسرور جلد 15 7 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 مالی مشکلات کا شکار تھے۔مقروض ہونے کے علاوہ کئی قسم کی گھر یلو پریشانیاں تھیں اور ان کی ریٹائر منٹ کا وقت بھی قریب آرہا تھا۔قبولیت احمدیت کے بعد انہیں جب چندے کی برکت کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے آپ سے عہد کیا کہ وہ چندہ با قاعدگی سے ادا کریں گے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور مشکل حالات کے باوجود اپنی توفیق کے مطابق چندہ ادا کرتے رہے۔کہتے ہیں کہ چندے کی برکت سے دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالیٰ کے فضل سے میر ا تمام قرض اتر گیا۔گھر یلو پریشانیاں ختم ہو گئیں۔حکومت کی طرف سے میرے عہدے میں ترقی بھی مل گئی۔میری ریٹائر منٹ بھی مؤخر کر دی گئی۔اب موصوف نظام وصیت میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔سیر الیون سے منیر حسین صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ بواجے بو ( Boajibu) کی ایک جماعت کی ایک احمدی خاتون نے چار ہزار لیون کا وعدہ کیا۔ان کی آمد کا کوئی خاص ذریعہ نہیں تھا چھوٹاسا باغیچہ تھا جس میں انہوں نے کساوا لگایا ہوا تھا۔یہ وہاں ایک پودا ہے جس کی شکر قندی کی طرح لمبی جڑیں ہوتی ہیں۔وہ کھایا جاتا ہے تو وہی بیچ کر گزارا کرتی ہیں۔جب چندے کی ادائیگی کا وقت قریب آیا تو سیکرٹری صاحب وصولی کے لئے گئے تو جو پیسے انہوں نے چندے کی غرض سے جمع کئے ہوئے تھے وہ کسی بچے نے وہاں سے اٹھالئے اور خرچ کر دیئے اس پر وہ بڑی پریشان ہوئیں۔اب ایمان کی بھی حالت دیکھیں۔ان کا ایک بیٹا شراب کی دکان پر کام کرتا تھا۔مجبوری تھی یا صحیح طرح ایمان نہیں لایا ہو گا۔اس نے کہا کہ میں یہ پیسے دے دیتا ہوں۔آپ کو قرض دے دیتا ہوں۔اس پر خاتون نے سختی سے انکار کر دیا کہ یہ پیسے حلال نہیں ہیں۔اس لئے ان پیسوں سے میں چندہ نہیں دے سکتی۔یہ ہے ایمان کی غیرت۔لیکن پھر اللہ تعالیٰ کا سلوک بھی دیکھیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا چاہنا بندے کا مقصد ہے تو پھر اللہ تعالیٰ نے کیا سلوک فرمایا۔کہتے ہیں اسی دوران ایک نامعلوم شخص آیا جسے یہ بالکل نہیں جانتی تھیں۔اس نے دس ہزار لیون ان کو دیئے۔انہوں نے چار ہزار لیون چندے کی بجائے دس ہزار لیون چندے میں دے دیئے اور کہا کہ یہ صرف چندے کی ادائیگی کے لئے اللہ تعالیٰ نے مجھے بھجوائے ہیں اور اگلے سال کے لئے پھر انہوں نے دس ہزار لیون چندہ لکھوا دیا۔سیر الیون سے ہی عقیل صاحب مبلغ کہتے ہیں کہ بوریجن کے ایک نو مبائع دوست کا ایک لمبے عرصے سے زمین کا تنازع چل رہا تھا اور مخالف فریق کافی اثر ورسوخ رکھنے والا تھا۔بظاہر کیس کو جیتنے کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔اسی دوران انہوں نے مسجد میں مالی قربانی کی برکات کے بارے میں سنا۔وہ کہتے ہیں کہ جب میں نے مالی قربانی کی برکات کے حوالے سے سنا تو سوچا کہ میں بھی چندہ دے دیتا ہوں۔یہ نو مبائع عیسائی سے احمدی ہوئے تھے۔ہو سکتا ہے کہ اس چندے کی برکت سے میری زمین کا معاملہ طے ہو جائے۔چنانچہ انہوں نے حسب استطاعت چندہ ادا کر دیا۔اس کے کچھ عرصے بعد ہی کیس کا فیصلہ ان کے حق میں ہو گیا جو بظاہر نا ممکن لگ رہا تھا۔یہ دوست کہتے ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ یہ سب مالی قربانی کی برکت کی وجہ سے ہوا ہے۔