خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 330
خطبات مسرور جلد 15 330 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 اے اللہ تو دعا سننے والا ہے۔اس لئے ہماری دعائیں قبول کر اور ہمیں پاک اولاد بخش۔پس جب پاکیزہ اولاد کی خواہش ہو تو اس کے لئے دعا بھی ہونی چاہئے لیکن ساتھ ہی ماں باپ کو بھی ان پاکیزہ خیالات کا اور نیک اعمال کا حامل ہو نا چاہئے جو نیکوں اور انبیاء کی صفت ہیں۔ہر ماں اور باپ کو وہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔بعض دفعہ مائیں دینی امور کی طرف توجہ دینے والی ہوتی ہیں، عبادات کرنے والی ہوتی ہیں تو مرد نہیں ہوتے۔بعض جگہ مرد ہیں تو عورتیں اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہیں۔اولاد کے نیک ہونے اور زمانے کے بد اثرات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اولاد کی خواہش اور اولاد کی پیدائش سے بھی پہلے مرد عورت دونوں نیکیوں پر عمل کرنے والے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے واقعات میں ایک واقعہ ملتا ہے جس میں اولاد ہونے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک شخص کے لئے دعا ہے۔لیکن اس دعا کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مشروط کر دیا اور مشروط کیا اس شخص کے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرنے سے۔وہ شخص ابھی احمدی بھی نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں نہیں آیا تھا لیکن شاید اس کی کوئی نیکی تھی جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے لئے دعا کی۔یہ منشی عطا محمد صاحب پٹواری ہیں۔کہتے ہیں کہ میں غیر احمدی تھا۔دین سے دُور ہٹا ہوا تھا۔ان کے ایک دوست تھے وہ انہیں احمدیت کی تبلیغ کیا کرتے تھے لیکن کہتے ہیں میں نے کبھی توجہ نہیں کی۔ایک دن انہوں نے مجھے بہت زیادہ اس بارے میں کہا اور میرے پیچھے پڑگئے کہ میری باتیں سنو اور ان پر غور کرو۔میں نے کہا اچھا اگر آپ یہی کہتے ہیں تو میں آپ کو ایک دعا کے لئے کہتا ہوں۔اگر وہ سنی گئی تو پھر میں غور کروں گا۔آپ کہتے ہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعائیں بھی قبول ہوتی ہیں تو ان کو میرے لئے دعا کے لئے کہیں اور دعا اس بات کی ہے کہ میری تین بیویاں ہیں کسی کی اولاد نہیں ہے۔ایک کے بعد دوسری شادی میں نے کی تاکہ اولاد پیدا ہو۔یہ دعا کریں کہ مجھے بیٹا عطا ہو اور بیٹا بھی پہلی بیوی سے ہو۔کہتے ہیں یہ خط انہوں نے میری طرف سے لکھ دیا۔کچھ عرصہ کے بعد مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے جواب آیا کہ حضور نے دعا کی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دعا کی ہے اور فرمایا کہ آپ کو بیٹا عطا ہو گا لیکن شرط یہ ہے کہ آپ زکریا والی تو بہ کریں۔منشی صاحب کہتے ہیں میں ان دنوں میں سخت بے دین تھا۔شرابی کبابی اور راشی ہوا کرتا تھا۔رشوت لینا میر ا عام کام تھا۔مجھے کیا پتا ہونا تھا کہ زکریا والی تو بہ کیا ہوتی ہے۔کہتے ہیں میں یہ پتا کرنے کے لئے کہ زکریا والی تو بہ کیا ہے مسجد میں گیا تو مسجد کا امام مجھے مسجد میں دیکھ کر حیران ہوا کہ یہ شر ابی کبابی کہاں سے آگیا۔لیکن بہر حال جب میں نے سوال کیا تو میرے سوال کا وہ جواب نہیں دے سکا۔کہتے ہیں پھر میں مولوی فتح دین صاحب احمدی کے پاس دوسرے گاؤں میں گیا۔ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ زکریا