خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 329
خطبات مسرور جلد 15 329 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے جب دعائیں اور طریق بتائے ہیں تو اس لئے کہ اگر ہم چاہیں تو خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی شیطان کے حملوں سے بچا سکتے ہیں لیکن اس کے لئے مسلسل دعاؤں، اللہ تعالیٰ کی مدد اور محنت اور کوشش کی ضرورت ہے۔ایک مسلسل جہاد کی ضرورت ہے۔اور حقیقی مومن سے یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جڑ کر اپنے آپ کو بھی اور اپنی اولاد کو بھی شیطان کے حملوں سے بچائے نہ کہ مایوس ہو جائے یا تھک جائے اور خوفزدہ ہو کر منفی سوچوں کو اپنے اوپر طاری کرلے۔منفی سوچ کی ایک فکر انگیز مثال گزشتہ دنوں ایک خط میں میرے سامنے آئی جب ایک شخص نے لکھا کہ آج کل کی دنیا میں پیسے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔غیر اخلاقی سرگرمیوں کی انتہا ہوئی ہوئی ہے۔منشیات کی نئی نئی قسمیں اور ان کا استعمال عام ہو رہا ہے۔معاشرے کی عمومی بے راہ روی بڑھتی چلی جارہی ہے لکھنے والا کہتا ہے کہ اس وجہ سے میں نے سوچا کہ شادی تو بیشک کروں یا شادی ہوئی ہوئی ہے تو بہتر یہی ہے کہ بے اولا در ہوں۔اولاد نہ ہو۔یہ انتہائی مایوس کن سوچ ہے۔گویا شیطان سے ہار مان کر اس کو تمام طاقتوں کا منبع اور حامل سمجھ کر یہ بات کی جارہی ہے۔گویا کہ اللہ تعالیٰ میں کوئی طاقت نہیں کہ اولاد کی تربیت کے لئے ہماری کوششوں میں، ہماری دعاؤں میں برکت ڈالے (نعوذ باللہ ) اور ہماری اولاد کو اور ہمیں شیطان کے حملوں سے بچائے، چاہے جتنی بھی ہم کوشش کر لیں اور دعائیں کر لیں۔گویا دوسرے لفظوں میں ہم شیطان کے چیلوں کو کھلی چھٹی دینے والے بن جائیں اور مومنین کی نسل آہستہ آہستہ ختم ہو جائے۔یہ سوچ انتہائی خطرناک اور مایوس کن سوچ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے والے کی ایسی سوچ نہیں ہو سکتی اور نہ ہونی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس انقلاب کے پیدا کرنے کے لئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے اس کا حصہ بننے کے لئے ہم نے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو استعمال کرنا ہے اور اپنی نسل میں بھی اس روح کو پھونکنا ہے۔جو ہمارے مقاصد ہیں ان کے لئے دعائیں بھی کرنی ہیں۔ان کی تربیت بھی کرنی ہے کہ معاشرے کے ان سب گندوں اور غلاظتوں کے باوجود ہم نے شیطان کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔اور دنیا میں خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔انشاء اللہ تعالی۔پس مایوس ہونے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ ایک عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے نیک اولاد کے لئے ہمیں قرآن کریم میں دعائیں سکھائی ہیں جیسا کہ میں نے ذکر کیا۔ایک جگہ حضرت زکریا علیہ السلام کے ذریعہ دعا سکھائی اور وہ دعا یہ ہے کہ رَبِّ هَبْ لِي مِن لَّدُنْكَ ذُرِّيَّةٌ طَيْبَةً إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ (آل عمران: 39) اے میرے رب مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریت، اولاد عطا کر۔یقینا تو بہت دعائیں سننے والا ہے۔اللہ تعالیٰ نے خود یہ دعا سکھائی کہ میں دعائیں سننے والا ہوں۔اس لئے تم بھی کہو کہ