خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 328 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 328

خطبات مسرور جلد 15 328 28 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 14 جولائی 2017ء بمطابق 14 وفا 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بہت سی عورتیں مرد لکھتے ہیں اور ملیں ، ملاقات کریں تب زبانی بھی یہی کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں اولاد ہونے والی ہے اس کے لئے دعا کریں۔یا یہ کہ ہم اس پیدا ہونے والی اولاد کے لئے کیا دعا کریں۔یا پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ ہماری اولاد ہے، بچے ہیں اور بچپن سے جوانی کی طرف بڑھ رہے ہیں، اس میں قدم رکھنے والے ہیں، ان کی تربیت کی فکر رہتی ہے ان کے لئے کیا دعا کریں؟ کس طرح ان کی تربیت کریں کہ ہمارے بچے صحیح راستے پر اور نیکیوں پر قائم رہیں؟ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی اکثریت یہ سوچ رکھتی ہے اور ان کو یہ توجہ ہے یا کم از کم فکر ہے کہ کس طرح اپنے بچوں کی تربیت کرنی ہے۔اور یہ اللہ تعالیٰ کا ہم احمدیوں پر بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی وجہ سے ہماری سوچیں اس زمانے میں جبکہ دنیا کی خواہشات نے ہر ایک کو گھیر ا ہوا ہے، یہ ہیں کہ ہم اپنی اولاد کے لئے صرف دنیا کی فکر نہیں کرتے بلکہ دین کی بہتری کا بھی خیال پیدا ہو تا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ہم مسلمانوں پر احسان فرمایا ہے بشر طیکہ مسلمان اس طرف توجہ دیتے ہوئے اس پر عمل کرنے والے ہوں کہ قرآن کریم میں مختلف جگہوں پر بچوں کی پیدائش سے پہلے سے لے کر تربیت کے مختلف دوروں میں سے جب بچہ گزرتا ہے تو اس کے لئے دعائیں بھی سکھائی ہیں اور تربیت کا طریق بھی بتایا ہے اور والدین کی ذمہ داریوں کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔اگر ہم یہ دعائیں کرنے والے اور اس طریق کے مطابق اپنی زندگی گزار نے والے اور اپنے بچوں کی تربیت کی طرف توجہ دینے والے ہوں تو ایک نیک نسل آگے بھیجنے والے بن سکتے ہیں۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کی تربیت کوئی آسان کام نہیں اور خاص طور پر اس زمانے میں جب قدم قدم پر شیطان کی پیدا کی ہوئی دلچسپیاں مختلف رنگ میں ہر روز ہمارے سامنے آرہی ہوں تو یہ بہت مشکل کام