خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 326 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 326

326 خطبات مسرور جلد 15 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جولائی 2017 کے سینے کھولتا ہے اور احمدیت قبول کرنے کی توفیق دیتا ہے۔بیشمار ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جب اللہ تعالیٰ خود پکڑ کر لوگوں کو قبول احمدیت کی توفیق عطا فرماتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تائید و نصرت کے نظارے دکھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ " خدا تیرے نام کو اس روز تک جو دنیا منقطع ہو جائے عزت کے ساتھ قائم رکھے گا اور تیری دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔" پھر فرمایا " وہ لوگ جو تیری ذلت کی فکر میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے ناکام رہنے کے درپے اور تیرے نابود کرنے کے خیال میں ہیں وہ خود ناکام رہیں گے اور ناکامی اور نامرادی میں مریں گے۔" پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا کہ ”میں تیرے خالص اور دلی محبتوں کا گر وہ بھی بڑھاؤں گا اور ان کے نفوس و اموال میں برکت دوں گا اور ان میں کثرت بخشوں گا اور وہ مسلمانوں کے اس دوسرے گروہ پر تابروز قیامت غالب رہیں گے جو حاسدوں اور معاندوں کا گروہ ہے۔" یعنی مسلمانوں کے دوسرے فرقے بھی رہیں گے لیکن غلبہ جماعت احمدیہ کو انشاء اللہ حاصل ہو گا اور فرمایا کہ "خدا انہیں " یعنی کہ وہ مومنین کو " نہیں بھولے گا اور فراموش نہیں کرے گا اور وہ علی حسب الاخلاص اپنا اپنا اجر پائیں گے۔" (آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 648) پس اللہ تعالیٰ اس کے مطابق ہر روز جماعت میں اخلاص و وفا کے ساتھ ہر مخلص کو ، ہر احمدی کو شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے خدا تعالیٰ کے بیشمار وعدے پورے بھی ہوئے ہیں تو انشاء اللہ تعالیٰ جو کثرت کا وعدہ ہے یہ بھی پورا ہو گا۔حاسدوں اور معاند وں پر دلائل کی رُو سے ہمیشہ سے ہم غالب رہے رہیں۔دلیل ان کے پاس ہے نہیں اور جیسا کہ واقعات میں بھی آپ نے سنا کئی لوگوں نے یہی ذکر کیا کہ دلیل کی رو سے ہمارے پاس کچھ نہیں تھا لیکن مخالفت تھی۔اور آئندہ بھی انشاء اللہ تعالیٰ دلائل کی رو سے ہم ہی ہمیشہ غالب رہیں گے۔ضرورت ہے تو اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے کے لئے ہم اپنے اخلاص میں اضافہ کریں تاکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بننے والے بنیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک اقتباس پیش کرتا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ : " کیا وہ " یعنی مخالفین " سمجھتے ہیں کہ اپنے منصوبوں سے اور اپنے بے بنیاد جھوٹوں سے اور اپنے افتراؤں سے اور اپنی ہنسی ٹھٹھے سے خدا کے ارادے کو روک دیں گے یاد نیا کو دھوکہ دے کر اس کام کو معرض التوا میں ڈال دیں گے جس کا خدا نے آسمان پر ارادہ کیا ہے۔اگر کبھی پہلے بھی حق کے مخالفوں کو ان طریقوں سے کامیابی ہوئی ہے تو وہ بھی کامیاب ہو جائیں گے۔" حق کے جو مخالف ہیں اگر تو پہلے کامیاب ہوئے ہیں تو اب بھی ہو جائیں گے "لیکن