خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 6 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 6

خطبات مسرور جلد 15 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 اس گاؤں کے تقریباً ہر فرد نے اپنا چندہ وقف جدید ادا کیا بلکہ ایک دوست نے نہ صرف چندہ وقف جدید ادا کیا بلکہ چھ سو کلومیٹر سفر کر کے جلسہ سالانہ میں شرکت بھی کی اور آبی جان آئے۔پھر قربانی کی ایک مثال اور اللہ تعالیٰ کا سلوک دیکھیں۔تنزانیہ سے یوسف عثمان صاحب مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک احمدی بھائی پاؤں سے معذور ہیں۔اس معذوری کی وجہ سے کوئی کام وغیرہ نہیں کر سکتے۔تنزانیہ کے ہر علاقے میں ابھی تک بجلی کی سہولت مہیا نہیں ہے۔اس لئے بعض لوگ چھوٹے چھوٹے سولر پینل لے کر اپنے گھر پر ایک آدھ بلب جلانے کا انتظام کرتے ہیں۔ہمارے یہ احمدی بھائی بھی چھوٹا سا سولر پینل لے کر لوگوں کے موبائل چارج کر کے گزارہ کرتے ہیں اور جو بھی تھوڑی بہت آمدن ہو اس کے مطابق با قاعدگی سے چندہ ادا کرتے ہیں۔ایک دن ہمارے معلم نے انہیں چندہ ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی تو کہنے لگے کہ مجھے گزشتہ دودن میں دوہزار شلنگ آمدن ہوئی ہے۔میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں یہی ادا کر دیتا ہوں۔معلم صاحب نے انہیں کہا کہ اگر آپ یہ سب رقم چندے کے طور پر ادا کر دیں گے تو گھر میں بچوں کو کیا کھلائیں گے ؟ کہنے لگے کہ اللہ تعالیٰ رزاق ہے وہ خود ہی انتظام کر دے گا۔چنانچہ معلم صاحب کہتے ہیں کہ ابھی میں نے یہ رسید کائی ہی تھی کہ بہت سارے لوگ ان کے پاس موبائل چارج کروانے کے لئے آئے اور انہیں اس سے زیادہ آمدن ہوئی جتنا انہوں نے چندہ ادا کیا تھا۔اس پر احمدی بھائی نے معلم صاحب سے کہا کہ آپ نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے چندہ ادا کرنے میں کتنی برکت عطا کی ہے کہ اس وقت اُس سے بڑھ کر رقم لوٹادی ہے۔پھر کس طرح قربانی کے ساتھ اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والوں کو نوازتا ہے اور ان کے ایمان میں اضافہ کرتا ہے۔اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ تنزانیہ کے ریجن شیانگا کی ایک جماعت کے ایک دوست کے بیٹے کو شدید ملیر یا لاحق ہو گیا اور ان کی جیب میں علاج کے لئے صرف پندرہ سو شلنگ تھے۔سیکرٹری مال ان کے گھر گئے اور چندے کی طرف توجہ دلائی تو انہوں نے فور جیب سے وہی رقم نکال کے سیکرٹری مال کو دے دی۔یہ دوست کہتے ہیں کہ پہلے تو مجھے خیال آیا کہ بیٹے کی دوائی کے پیسے کہاں سے آئیں گے۔لیکن پھر میں نے کہا کہ اللہ کی راہ میں دیا ہے تو اللہ تعالیٰ خود ہی انتظام کر دے گا۔چنانچہ کچھ ہی دیر بعد دوسرے شہر سے ان کے بڑے بیٹے نے فون کیا کہ میں اتنی ہزار شلنگ بھیج رہا ہوں اور یہ پیسے اسی دن ان کو مل گئے۔بچے کا علاج بھی ہو گیا۔دوسرے کام بھی ہو گئے اور ان کی ضروریات پوری ہو گئیں اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے کئی گنا بڑھ کے مجھے عطا کر دیا اور اب یہ واقعہ وہ دوسروں کو بھی اور وہاں کے مقامی لوگوں کو جو احمدی ہیں سناتے ہیں اور چندے کی اہمیت ان پر واضح کرتے ہیں۔پھر مغربی افریقہ کے ایک ملک مالی کی ایک شخصی قربانی کا واقعہ ہے۔وہاں کے مبلغ احمد بلال صاحب لکھتے ہیں کہ سکاسور یجن کے ایک دوست نے 2013ء میں احمدیت قبول کی تھی اور احمدیت قبول کرنے کے وقت سخت