خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 318
خطبات مسرور جلد 15 318 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جولائی 2017 پھر فرمایا کہ "میں تجھے عزت دوں گا اور بڑھاؤں گا۔" (آسمانی فیصلہ، روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 342) پھر ایک الہام یہ ہے کہ " يَنْصُرُكَ اللهُ مِنْ عِنْدِه " کہ " خدا اپنی طرف سے تیری مدد کرے گا۔" (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 77) پھر اللہ تعالیٰ کا تبلیغ کے بارے میں، پیغام پہنچانے کے بارے میں یہ وعدہ بھی ہے کہ "میں تیری تبلیغ زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔" (الحکم جلد 2 نمبر 6-5۔مورخہ 27 مارچ،2 اپریل 1898ء صفحہ 13) پھر یہ بھی فرمایا: " كتب الله لا غُلِبَنَّ انَا وَرُسُلِنی" که خدا تعالیٰ نے یہ لکھ چھوڑا ہے کہ میں اور میرا رسول غالب آئیں گے۔اربعین نمبر 2، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 355) اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا تائید و نصرت کے بے شمار الہامات ہیں۔اب یہ صرف ظاہری باتیں نہیں جو نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے کر دیں بلکہ اللہ تعالیٰ ہر زمانے میں اس کا عملی اظہار بھی کرتا رہتا ہے۔کہیں اللہ تعالیٰ مخالفین کے مکر اُن پر الٹا کر اپنی تائید کے عملی نظارے دکھاتا ہے۔کہیں خود لوگوں کی رہنمائی کر کے انہیں احمدیت کی سچائی دکھاتا ہے۔کہیں غیر وں کے دلوں میں ڈالتا ہے کہ کہ وہ غیر وں کے حملوں کے خلاف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں کی تائید اور مدد کریں۔اس طرح اللہ تعالیٰ کے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ یہ وعدے ہیں ان کے عملی اظہار ، جیسا کہ میں نے کہا، وقتا فوقتا ہوتے رہتے ہیں۔اس وقت میں بعض واقعات پیش کرتا ہوں۔مخالفین کے بد انجام کے بارے میں میں نے دو واقعات لئے ہیں جو احمدیوں کے لئے جہاں ایمان میں زیادتی کا باعث بنے وہاں غیروں کے لئے بھی احمدیت کی سچائی کا نشان بنے۔ناظر دعوت الی اللہ قادیان نے لکھا کہ اسحاق صاحب ان کے ایک معلم ہیں۔وہ رمضان کے قریب ایک گاؤں میں اپنے ایک رشتہ دار کے گھر گئے تاکہ گھر والوں کو رمضان کے اوقات کے بارے میں بتادیں۔کہتے ہیں کہ ٹائم ٹیبل دینے کے بعد جب گھر والوں کو رمضان کی عظمت اور برکات کے بارے میں بتارہے تھے تو اسی اثناء میں ایک غیر از جماعت نوجوان اقبال نامی آکر بیٹھ گیا۔کچھ دیر تو وہ معلم صاحب کی باتیں سنتا رہا پھر اس کے بعد اس نے گھر والوں سے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ ان کے رشتہ داروں نے شاید واضح طور پر بتانا مناسب نہ سمجھا کہ جماعت احمدیہ کا معلم ہے۔انہوں نے صرف اتنا کہا کہ یہ فلاں گاؤں سے آیا ہے۔لیکن معلم صاحب نے صاف طور پر اپنا تعارف کر وایا کہ میں جماعت احمدیہ کا معلم ہوں۔اس پر یہ شخص بڑے غصہ میں آگیا، آگ بگولہ ہو گیا۔معلم نے اپنا مکمل تعارف کروانا چاہا تا کہ اس کی کچھ غلط فہمیاں دور کریں لیکن اس شخص نے سننے سے انکار کر دیا۔کہتے ہیں دوران گفتگو قرآن مجید، اسلام اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا نام آتا تو بہ شخص کہتا کہ