خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 319
خطبات مسرور جلد 15 319 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جولائی 2017 آپ لوگوں کو یہ اسلامی اصطلاحیں استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں۔وہی پاکستانی مولویوں والا اثر ہے۔نیز جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام آتا تو وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اور جماعت کو بڑی غلیظ گالیاں دیتا اور کہتا کہ میں سعودی عرب، بحرین اور قطر و غیرہ رہ کر آیا ہوں۔آپ لوگوں کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں۔تمام اسلامی ممالک نے آپ کے خلاف فتوے دیئے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہا ہوا ہے کہ اگر رستے میں سانپ ہو اور قادیانی ہو تو سانپ کو چھوڑ دو اور قادیانی کو قتل کر دو۔یہ کہتے ہیں کہ اور یہ بات کہہ کے بار بار وہ مجھے مارنے کے لئے اٹھتا تھا کہ آج مجھے موقع ملا ہے تو میں قادیانی کو ماروں، قتل کروں اور ثواب کماؤں۔مگر بہر حال وہ کامیاب نہ ہو سکا۔کہتے ہیں میں نے بڑے صبر اور تحمل سے اس کی ساری باتیں سنیں۔بکواس سنی، گالیاں سنیں۔جب وہ بد زبانی اور بکو اس پر زیادہ ہی اتر آیا تو کہتے ہیں میں نے اسے کہا کہ اگر میں جماعت احمدیہ کا معلم نہ ہوتا تو مرنے مارنے کی آپ کی خواہش بھی پوری کر دیتا لیکن ہمیں گالیوں کے بدلے دعائیں دینے کی تعلیم دی گئی ہے اس لئے میں کچھ نہیں کہتا۔بہر حال اس بات پر وہ خاموش ہو گیا یا ماحول کو دیکھ کے بیٹھ گیا اور ان کو یہ وار ننگ دی کہ آج کے بعد اگر اس گاؤں میں تم نظر آئے تو بہت بُرا حشر ہو گا۔کہتے ہیں میں نے اس کو صرف یہ جواب دیا کہ یہ تو وقت بتائے گا کہ بُرا حشر کس کا ہو گا اور یہ کہہ کر میں خاموشی سے وہاں سے اٹھ کے آگیا۔یہ شخص قریبی گاؤں میں افراد جماعت کو بھی کہتا تھا کہ قادیانیت چھوڑ دو لیکن لوگ اس کی بات پہ توجہ نہیں دیتے تھے۔بہر حال کہتے ہیں میں نے رمضان کے بعد پندرہ یوم کی رخصت لی اور وہاں سے چلا گیا۔واپس آکر ایک بزرگ عورت نے بتایا کہ مولوی اقبال جس نے جماعت کو گالیاں دی تھیں اس کو اچانک ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ مر گیا۔تو اس واقعہ سے نہ صرف وہاں اس چھوٹے سے گاؤں میں افراد جماعت کے ایمان میں اضافہ ہوا بلکہ غیر از جماعت بھی بڑے متاثر ہوئے کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے اللہ تعالیٰ کی یہ تائید د یکھی اور اہانت کرنے والے کو ذلیل ورسوا ہوتے اور ختم ہوتے دیکھا۔اسی طرح یمن کے ایک صاحب غانم صاحب ہیں۔وہ مخالفوں کے انجام کے بارے میں لکھتے ہیں کہ جب سے میں احمدی ہو اہوں میں تبلیغ کر رہا ہوں اور خصوصاً نوجوانوں کے ایک ٹولے کی طرف سے سخت مخالفت اور دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔یہ دوست کہتے ہیں کہ 2010ء کے رمضان میں ایک دفعہ میر اہمسایہ اور اس کے چند دوست مجھے مجبور کر کے اپنے ایک "جامعہ الایمان" کے شیخ سے بات کرنے کے لئے لے گئے۔وہاں ایک مولوی بھی آگیا۔میں نے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے دلائل بیان کئے۔پھر قتل مرتد اور جہاد اور وفات مسیح کے موضوعات پر بات ہوئی اور وہ سب بغیر دلیل کے اپنے عقائد پر اصرار کرتے رہے اور میں قرآن و حدیث سے دلائل پیش کرتا تھا۔بہر حال جو اُن کا بڑا شیخ تھا وہ کچھ احترام سے پیش آیا لیکن دوسرا بہت بد زبانی کرتا تھا