خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 317
خطبات مسرور جلد 15 317 27 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 07 جولائی 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 07 جولائی 2017ء بمطابق 07 وفا 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جیسا کہ انبیاء کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے دعوے کے بعد ان کی مخالفت بھی ہوتی ہے اور جوں جوں جماعت پھیلتی ہے مخالفت اور حسد کی آگ بھی بڑھنا شروع ہو جاتی ہے۔مخالفین کے مخالفت کے طریق بھی مخالفت کی ہر ممکن صورت اختیار کرتے جاتے ہیں۔لیکن چونکہ دعویٰ کرنے والا اللہ تعالی کی طرف سے بھیجا گیا ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسے مخالفتوں کے باوجو د ترقی کے وعدے اور خوشخبریاں دی ہوتی ہیں اس لئے کوئی مخالفت ترقی کی راہ میں روک نہیں بنتی اور نہ بن سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مسیح اور مہدی بنا کر بھیجا تو آپ کے ساتھ بھی اس سنت کے مطابق سلوک ہونا تھا اور اللہ تعالیٰ کی جو تائید و نصرت کی سنت ہے اسی کے مطابق سلوک ہونا تھا اور اللہ تعالیٰ نے وہ سلوک بھی فرمایا اور آپ کی جماعت کے ساتھ بھی یہی سلوک اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے۔جہاں مخالفتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے خبر دی تو وہاں مخالفین کے بد انجام اور مخالفتوں کے باوجود آپ کے سلسلہ کے بڑھنے اور آپ کی تائیدات کی خبر دی۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا، بہت سارے الہامات ہیں، ایک یہ الہام ہے کہ "میں تیرے خالص اور دلی محبوں کا گروہ بھی بڑھاؤں گا۔" ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 648) پھر ایک یہ الہام ہے کہ " میں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں۔" ( بدر جلد 6 نمبر 51 مورخہ 19 دسمبر 1907ء صفحہ 4) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ "يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ " یعنی " تیری مدد وہ لوگ کریں گے جن کے دلوں میں ہم اپنی طرف سے الہام کریں گے۔" (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 77)