خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 313 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 313

خطبات مسرور جلد 15 313 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جون 2017 اسلام کے خلاف جو بغض و کینہ ہے، مسلمان ممالک کو کمزور کرنے کی جو کوشش ہے اس پر بڑی حکمت سے یہ طاقتیں عمل درآمد کر رہی ہیں اور کریں گی۔لیکن یہ جنگ پھر محدود نہیں رہے گی۔روس بھی دوسرے فریق کی حمایت میں جنگ میں کھل کر آجائے گا جس کا وقتا فوقتا وہ اظہار کرتا بھی رہتا ہے۔ایک عالمی جنگ کی شکل بن سکتی ہے۔یہی تجزیہ نگار اب کہنے لگ گئے ہیں۔اگر کسی مسلمان ملک نے ابھی تک کوئی ترقی کی بھی ہے تو اس جنگ کے نتیجہ میں جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا بعض ملک تو کئی دہائیاں پیچھے جاچکے ہیں اور دوسرے ملک بھی کئی دہائیاں پیچھے چلے جائیں گے۔نقصان ہمیں مسلمانوں کو ہو گا۔آجکل اسی طرح قطر کا معاملہ بھی ہے۔مسلمانوں کو لڑانے کے لئے ایک اور کوشش ہے۔دہشتگر دی کے خاتمہ سے زیادہ یہ بات نظر آتی ہے کہ فرقہ واریت کی وجہ سے ایک حسد پیدا ہوئی ہوئی ہے اور دولت کو حاصل کرنے کی بھی ایک کوشش ہے اور اپنے زیر نگین رکھنے کی بھی کوشش ہے۔امریکہ نے پہلے تو سعودی عرب کو کہا تھا کہ بیشک قطر پر پابندیاں لگا دو۔یہی میڈیا میں زیادہ تر ذکر آرہا ہے کہ صدر امریکہ کے دورے کے بعد ، امریکہ کی اجازت ملنے کے بعد قطر کے خلاف یہ اقدامات کئے گئے ہیں۔اب جب یہ سب کچھ ہو گیا تو امریکہ کی حکومت یہ کہتی ہے کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی صلح کے لئے بڑی سخت شرائط رکھ رہے ہیں ان کو نرم رویہ دکھانا چاہئے۔اور اب یہ ظاہر کرنے کے لئے قطر پہ بھی ہاتھ رکھنا شروع کر دیا ہے کہ ہم تو اس بارے میں بالکل نیوٹرل ہیں۔مسلمان ممالک کو سمجھ نہیں آرہی کہ مسلمانوں کے خلاف ایک سازش کی جارہی ہے بلکہ اسلام کے خلاف ایک سازش کی جارہی ہے اور ہمیں اس سے بچنا چاہئے۔پھر صرف مڈل ایسٹ یا عرب ممالک کا ہی معاملہ نہیں ہے کہ جہاں سے جنگ کے شعلے بھڑک سکتے ہیں۔امریکہ اور کوریا کا بھی تناؤ ہر آنے والے دن میں بڑھ رہا ہے اور دنیا کے حالات پر نظر رکھنے والے اور تبصرہ کرنے والے اس بات کا کھل کر اظہار کر رہے ہیں کہ امریکہ کا معمولی سا بھی ہتھیاروں کا استعمال اور سختی کا رویہ، یا کوریا کی طرف سے ہتھیار کا استعمال چاہے وہ بغیر نقصان پہنچائے ڈرانے کے لئے ہی ہو ، اس خطے میں بدترین جنگ پر منتج ہو گا۔پس دنیا کے بڑے خوفناک حالات ہیں۔چین گو کوریا کا حمایتی ہے لیکن وہ بھی حالات کی سنگینی اور جنگ کے خوفناک نتائج کو محسوس کرتے ہوئے کوریا کو سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکہ کو بھی سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے۔پھر نئی ایجادیں ہیں۔انسانوں نے اپنے رابطوں کے لئے ، اپنے ریکارڈ رکھنے کے لئے، اپنے معاشی اور دوسرے نظام چلانے کے لئے بڑی آسانیاں پیدا کی ہیں۔کمپیوٹر نے بہت سے کاموں کو سنبھال لیا ہے۔لیکن یہی ایجاد دنیا کی تباہی کا بھی ذریعہ بن سکتی ہے۔آجکل بار بر کبھی کسی خاص ملک میں اور کبھی پوری دنیا میں سائبر اٹیک