خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 314

خطبات مسرور جلد 15 314 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جون 2017 (Cyber attack) ہو رہے ہیں۔سارا نظام اس سے درہم برہم ہو جاتا ہے۔یہاں کا بھی این ایچ ایس (NHS) کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ایئر پورٹس کا نظام درہم برہم ہو گیا۔جنگی آلات کے استعمال اور جنگوں کی وجہ بنے میں بھی یہ سائبر حملے جو ہیں خوفناک کردار ادا کر سکتے ہیں اور تباہی لا سکتے ہیں۔چنانچہ نیٹو کے ایک نمائندے نے یہ واضح کیا ہے کہ نیٹو پر یاد نیا کے حساس معاملات میں کہیں بھی یہ سائبر حملہ ہو گیا تو ایک تباہ کن جنگ کا باعث بن سکتا ہے اور مزید ہم اس قسم کا حملہ برداشت نہیں کر سکتے۔یہ وار نگ وہ دے چکے ہیں۔پس دنیا تو اپنی تباہی کے خود سامان کر رہی ہے اور سمجھتے ہیں کہ دنیا داروں کی ترقی ان کی حفاظت کی ضامن ہے جبکہ یہ ان کی تباہی کی وجہ بن سکتی ہے۔اور پھر دنیادار اور دنیادار سر بر اہان حکومت اپنے مفادات کے لئے بالکل لا پر واہ ہو گئے ہیں۔خاص طور پر جب دنیا کی سب سے بڑی ظاہری طاقت کا صدر اپنے خول میں بیٹھ کر ہوائی باتیں کر کے سمجھتا ہو کہ دنیا اب میرے کہنے کے مطابق چلے گی تو پھر اس کی یہ باتیں حالات کو مزید بگاڑنے والا بنا رہی ہیں۔ایک بات تو اس سے ظاہر ہے کہ یہ اپنے تکبر کی وجہ سے اپنے ہر مخالف کو اور مسلمانوں سے نفرت کی وجہ سے مسلمانوں کو ختم کرنے پر تلا بیٹھا ہوا ہے۔اپنے مخالفین کو، جو چاہے کوئی بھی ہوں، ختم کرنے پر تلا بیٹھا ہے اور اس بات سے لا پرواہ ہے کہ دنیا میں مختلف وجوہات سے جو حالات پید اہور ہے ہیں اس کے خوفناک نتائج سے وہ بھی محفوظ نہیں رہے گا۔مسلمانوں کی بد قسمتی ہے کہ جو جگہ مرکز اسلام ہے وہاں کے بادشاہ بھی ایماندار نہیں ہیں اور اپنے مفادات اور علاقے میں اپنی بڑائی منوانے کے لئے غیر مسلموں کی گود میں گر کر اسلام کو کمزور کر رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے ذکر کیا ہے کہ سعودی حکومت کا یہی حال ہے۔مسلمان حکومتوں کے جو سر بر اہان ہیں وہ بھی عمومی طور پر اپنے عوام پر ظلم کر کے عوام کی بڑی تعداد کو اپنے خلاف کر چکے ہیں اور پھر حکومتوں کو مستحکم کرنے کے لئے مزید ظلم کرتے چلے جارہے ہیں۔یہی حال سیر یا میں ہے۔یہی حال عراق میں ہے یا کچھ حد تک دوسرے ملکوں میں ہو رہا ہے۔اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان باتوں سے یہ مسائل کا حل کر لیں گے۔اور سمجھتے نہیں کہ اس کا حل وہی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا ہے اور جو مسیح موعود اور مہدی معہود کو ماننے میں ہی ہے۔ہم احمدی کمزور ہیں۔ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں ہے۔ہمارے پاس دولت نہیں ہے۔ہمارے پاس حکومت نہیں ہے۔لیکن ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق آنے والے مسیح و مہدی کو مان لیا ہے جس سے اب دنیا کا امن اور سلامتی وابستہ ہے اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق عمل کرنے سے قائم ہو گا۔دنیا اگر جنگوں کی تباہی اور بربادی سے بچ سکتی ہے تو صرف ایک ہی ذریعہ سے بچ سکتی ہے اور وہ ہے ہر احمدی کی ایک درد کے ساتھ ان تباہیوں سے انسانیت کو بچانے کے لئے دعا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا کہ دعا ایسی مصیبت سے بچانے کے لئے بھی فائدہ دیتی