خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 5 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 5

خطبات مسرور جلد 15 5 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 السلام کو ماننے کے بعد ان لوگوں میں پیدا ہوئی۔دُور دراز علاقوں میں رہتے ہیں، ان علاقوں میں جہاں سڑکوں کی سہولتیں بھی نہیں ہیں بلکہ وہاں سڑکیں بھی نہیں ہیں۔زیادہ تر پانی کا علاقہ ہے اس لئے کشتیوں پر سفر کئے جاتے ہیں اور بڑے لمبے فاصلے ہیں۔پھر مغربی افریقہ کے ایک ملک بینن کے ایک احمدی کا نمونہ دیکھیں جسے احمدی ہوئے ابھی سال بھی نہیں ہوا لیکن قربانی کی روح کا ادراک کس معیار کا ہے بلکہ یہ تو پرانوں کے لئے بھی نمونہ ہے۔وہاں کے مبلغ مظفر صاحب لکھتے ہیں کہ کو تونی ریجن کے ایک گاؤں ڈیکا مے (Dekambe) میں امسال جماعت کا قیام عمل میں آیا۔یہاں کے رہائشی عمومی طور پر مچھلیاں پکڑ کر فروخت کرتے ہیں۔مچھیرے ہیں اور اسی پر ان کا گزر بسر ہے۔لوکل مشنری نے ان گاؤں والوں کو چندے کی تحریک کی تو ایک احمدی دوست جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں انہوں نے فوراً تحریک پر لبیک کہتے ہوئے ایک ہزار فرانک کی رقم قربانی کے لئے پیش کر دی اور کہنے لگے گو کہ میرے حالات اتنے اچھے نہیں ہیں لیکن میں نہیں چاہتا کہ جس جماعت میں میں نے شمولیت اختیار کی ہے اس کی طرف سے کوئی تحریک ہو اور میں اس میں شامل ہونے سے رہ جاؤں۔پھر خلافت سے تعلق اور خطبہ کا اثر لوگوں پر کس طرح پڑتا ہے اور پھر قربانی کی طرف کس طرح توجہ پیدا ہوتی ہے اس کی مثال مغربی افریقہ کے ملک برکینا فاسو کے بعض نوجوانوں کی ہے۔دیکھیں ابھی احمدی ہوئے ان کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا لیکن معیار کیا ہیں ؟ امین بلوچ صاحب وہاں مربی ہیں۔لکھتے ہیں کہ 30 دسمبر 2016ء کو جب گزشتہ سال کا آخری خطبہ تھا۔اور نئے سال کے آغاز کے حوالے سے جو خطبہ میں نے دیا تھا اسے سن کر وہاں کے بنفور اریجن میں بعض نوجوان جو ابھی نئے احمدی ہوئے ہیں اور بعض پرانے بھی خطبہ کے فوراً بعد گھر گئے اور جو کچھ نئے سال کی تقریبات کے لئے جمع کیا ہوا تھاوہ لا کر وقف جدید میں دے دیا اور کہا کہ چونکہ خلیفہ وقت نے ہمیں نئے سال منانے کا طریق بتا دیا ہے اس لئے ہم یہ رقم چندہ میں دیتے ہیں اور رات کو تہجد ادا کر کے نیا سال منائیں گے۔اس طرح اس دن انہوں نے تقریباً چھہتر ہزار فرانک سیفا چندہ دیا۔پھر مغربی افریقہ کے ہی ایک ملک آئیوری کوسٹ کے ایک چھوٹے سے گاؤں کی نئی جماعت کے لوگوں کی قربانی دیکھیں۔وہاں کے "بوا کے "ریجن کے معلم مامادو (Mamadou) صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے ریجن کے ایک گاؤں نیاوو گو (Niavogo) کے لوگ اسی سال جماعت احمدیہ میں شامل ہوئے۔ایک سال ہوا ہے ابھی۔کہتے ہیں میں نے ان نو مبائعین کو وقف جدید میں شمولیت اور جلسہ سالانہ میں شمولیت کی تحریک کی۔ان نو مبائعین کو بتایا کہ خلیفہ وقت نے یہ کہا ہے کہ تمام احمدی وقف جدید اور تحریک جدید میں شامل ہوں۔کہتے ہیں کہ میر اخیال تھا کہ شاید کچھ لوگ تھوڑا سا چندہ ادا کر دیں کیونکہ وہاں غربت بہت زیادہ ہے لیکن صورتحال اس کے بالکل بر عکس نکلی۔