خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 311 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 311

خطبات مسرور جلد 15 311 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جون 2017 طرف بھی پہلے سے زیادہ قدم بڑھائے گی۔اسی طرح الجزائر میں بھی جماعت کے خلاف ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کارروائی ہو رہی ہے لیکن انکاؤ کا کے علاوہ تمام احمدی مضبوطی سے اپنے ایمان پر قائم ہیں اور مجھے لکھتے ہیں کہ آپ فکر نہ کریں۔ہم ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں۔بلکہ ایک نے یہ بھی لکھا کہ آپ کہتے ہیں نئی جماعت ہے۔ٹھیک ہے ہم نئی جماعت ہیں۔گزشتہ دس سال سے قائم ہوئی جماعت ہے لیکن ہماری قربانیاں دینے کی جو تاریخ ہے وہ بہت پرانی ہے اس لئے جب ہم پہلے قربانیاں دیتے رہے ہیں تو اب جبکہ ہم نے حق پالیا ہے تو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ہم قربانیاں نہ دیں۔حکومت کو وہاں سمجھ نہیں آرہی کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو نہ تو کسی قسم کا سخت رد عمل دکھا رہے ہیں اور نہ اپنے ایمان سے پھرتے ہیں۔عورتیں مرد سب سزائیں قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن اپنے ایمان سے ہٹنے کے لئے تیار نہیں۔یہ سب اس وجہ سے ہے کہ احمدی کے پاس دعا کا ہتھیار ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر یقین ہے۔اس بات پر وہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ امتحان کا دور ایک دن ختم ہو جائے گا اور اللہ تعالیٰ ضرور ہماری دعائیں سنے گا۔ہم تو اس خدا کے آگے جھکنے والے ہیں جو سب طاقتوں کا مالک ہے جو مضبوط سہارا ہے۔اس کے ساتھ جب کوئی چمٹ جائے تو وہ اس کا مضبوط سہارا بن جاتا ہے۔اس کی پناہ بن جاتا ہے۔ہمارا خدا سب بادشاہوں اور حکومتوں سے اونچی شان والا ہے۔وہ صمد ہے۔یہ دنیا دار حکومتیں اور طاقتیں اس کے سامنے ایک حقیر چیونٹی کے برابر بھی نہیں ہیں۔پس جب ہمارا خدا اس شان والا ہے تو پھر ہمیں خوف کی ضرورت نہیں۔ہاں امتحان آتا ہے بعض قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن آخر فتح بھی پھر اسی کی ہے جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہو اور جماعت احمدیہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر جماعت کو اپنی پناہ میں لیا ہے اور دشمن ناکام و نامراد ہی ہوا ہے۔پس اگر ضرورت ہے تو اس بات کی کہ ہم اللہ تعالیٰ کے مضبوط قلعہ میں پناہ لینے کے لئے اپنی دعاؤں اور ذکر کو نہ صرف قائم رکھیں بلکہ بڑھائیں۔پاکستان میں بھی جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا ہر احمدی کا کام ہے کہ دعاؤں کی طرف توجہ دے۔جو سمجھتے ہیں کہ ان کو براہ راست کوئی خطرہ نہیں ہے اور اس بات نے انہیں دعاؤں میں ست کر دیا ہے، دعاؤں کی طرف پوری توجہ نہیں ہے وہ بھی یادرکھیں کہ ان پر بھی امتحان اور ابتلاء کا دور آسکتا ہے اور اگر ایمان بچانا ہے تو اپنے ایمان کو بچانے کے لئے انہیں بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ میں ہی آنا پڑے گا۔اس لئے اس سے پہلے کہ ایسی حالت ہو دعاؤں کی طرف توجہ کریں۔اور جیسا کہ میں نے یہ دعاؤں کی قبولیت کے لئے کہا کہ اگر اس وقت کسی کو بظاہر دنیاوی آسانیاں بھی ہیں تب بھی جو احمدی بھائی مشکل اور پریشانیوں میں گرفتار ہیں ان کے لئے ایک درد کے ساتھ دعا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کی جماعتی پریشانیاں بھی دور فرمائے اور ذاتی پریشانیاں بھی دور فرمائے۔دوسروں کے لئے دعا کرنے سے