خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 310
خطبات مسرور جلد 15 صرف سطحی دعائیں نہ ہوں۔310 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جون 2017 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ: "میرا تو یہ مذہب ہے کہ دعا میں دشمنوں کو بھی باہر نہ رکھے۔" فرمایا " جس قدر دعا وسیع ہو گی اسی قدر فائدہ دعا کرنے والے کو ہو گا اور دعا میں جس قدر بخل کرے گا" کنجوسی کرو گے۔کمی کرو گے " اسی قدر اللہ تعالیٰ کے قرب سے دُور ہو تا جاوے گا۔" (ملفوظات جلد 2 صفحہ 74) پس اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا یہ بھی ذریعہ ہے کہ صرف اپنی ذات تک ہی دعاؤں میں انسان محدود نہ رہے بلکہ اپنی دعاؤں کو وسیع کرے اور آجکل کا معاشرہ اور دنیا آپس میں اس قدر قریب ہے کہ دوسروں کے لئے دعا سے انسان اپنی ذات کو بھی فائدہ پہنچارہا ہوتا ہے۔یعنی علاوہ اس کے جو ایک ثواب ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فائدہ پہنچ رہا ہے ، ظاہری دنیاوی فائدے بھی پہنچتے ہیں کیونکہ ظاہری طور پر بھی ہر ایک کا دوسرے پر اثر ہو رہا ہے۔پس پہلے تو اپنی دعاؤں میں یعنی مستقل دعاؤں میں جماعت کے لئے دعاؤں کو بھی شامل کرے اور یہ ہر احمدی کا فرض ہے کہ اس کو مجموعی طور پر جماعت کو اپنی دعاؤں میں شامل کرنا چاہئے۔پاکستان میں جماعت کے حالات کاہر ایک کو علم ہے۔آئے دن کوئی نہ کوئی مقدمہ یا کسی بھی طریق سے تنگ کرنے کی کارروائی بعض حکومتی کارندوں کی طرف سے یا مولویوں کی طرف سے ہوتی رہتی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے شر سے ہر پاکستانی احمدی کو بچا کر رکھے۔اسی طرح ملک کے جو سیاسی حالات ہیں ان میں حکومت بھی اپنی طرف سے توجہ ہٹانے کے لئے بعض کمزوروں کو یا اقلیتوں کو بعض ذریعوں سے اور مختلف گروہوں کے ذریعہ سے یا مختلف لوگوں کے ذریعوں سے یا حملوں کے ذریعوں سے نقصان پہنچانے کی کوشش کر سکتی ہے اور خود ہی ایسی حرکتیں کروا کر پھر اس کے بعد law and order قائم کرنے کے نام پر یہ لوگ مزید ایسے قانون بناتے ہیں تاکہ اپنی مرضی کے قانون چلا سکیں اور اپنی حکومت یا کرسی کو مضبوط کر سکیں۔بہر حال یہ خبریں آجکل وہاں میڈیا میں بھی نکل رہی ہیں۔اس بات کی کیا حقیقت ہے یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے لیکن ایسے مکر یہ سیاسی حکومتیں ماضی میں کرتی رہی ہیں اس لئے دعاؤں کی خاص ضرورت ہے۔پاکستانی احمد یوں کو جو وہاں رہنے والے ہیں اپنے لئے خاص دعا کرنی چاہئے۔پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ دعاؤں میں جو ایک جوش ہونا چاہئے وہ نہیں ہے اس لئے اس طرف توجہ دیں۔جہاں تک دعاؤں کے علاوہ کسی کوشش کا سوال ہے ہم نے نہ تو پہلے قانون ہاتھ میں لیا اور بدلے لئے اور نہ آئندہ لیں گے لیکن دعا کا ہتھیار ہے جو ہم ہمیشہ استعمال کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ ان لوگوں کی جماعت کو ختم کرنے کی جو منصوبہ بندیاں ہیں ان سے بچاتا رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ انشاء اللہ آئندہ بھی بچائے گا۔نہ صرف بچائے گا بلکہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت ترقی کی منازل کی