خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 309
خطبات مسرور جلد 15 309 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جون 2017 پناہ دینے کے لئے ان کے دروازے کھلے ہیں اور شیطان کو روکنے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کو شیطان سے بچانے کے لئے ہر وقت اللہ تعالیٰ کے مستعد حفاظت کرنے والے محافظ ان جگہوں پر کھڑے ہیں۔اگر انسان ہی اپنی بے عقلی سے کام لیتے ہوئے اپنے دشمن سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی پناہ گاہ کی طرف دوڑنے کی بجائے خطرناک راستوں کی طرف چلنا شروع کر دے تو پھر یہ انسان کا اپنا قصور ہے اور اس کی بے وقوفی کی، کم عقلی کی انتہا ہے۔پس رمضان میں جس محفوظ حصار میں آنے اور جس مضبوط قلعہ میں آنے کی کوشش کی ہے اور پناہ لی ہے ہمارا کام یہ ہے کہ اب اس پناہ میں رہنے کے لئے تمام احتیاطوں کو استعمال کریں۔یہ نہ ہو کہ ہماری کسی بے احتیاطی کی وجہ سے لا پرواہی کی وجہ سے ہم قلعہ سے باہر نکل کر اپنے بدترین دشمن کے ہاتھ لگ جائیں۔پس دعاؤں اور نیکیوں کے بجالانے کی طرف خاص توجہ دینے کی ہر ایک کو ہر وقت ضرورت ہے تاکہ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی پناہ گاہ میں رہیں۔دعاؤں اور ذکر الہی پر زور دیں۔ہماری دعاؤں کی کیا کیفیت ہونی چاہئے اور کس طرح ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں ؟ اس بارے میں ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " یاد رکھو کہ خدا تعالی بڑا بے نیاز ہے۔جب تک کثرت سے اور بار بار " کثرت سے بہت زیادہ اور بار بار " اضطراب سے دعا نہیں کی جاتی۔" کثرت بھی ضروری ہے اور اضطراب بھی ضروری ہے وہ دعا نہیں کی جاتی " وہ پر وا نہیں کرتا۔" فرمایا " دیکھو کسی کی بیوی یا بچہ بیمار ہو یا کسی پر سخت مقدمہ آجاوے تو ان باتوں کے واسطے اس کو کیسا اضطراب ہوتا ہے پس دعا میں بھی جب تک سچی تڑپ اور حالت اضطراب پیدا نہ ہو تب تک وہ بالکل بے اثر اور بیہودہ کام ہے۔قبولیت کے واسطے اضطراب شرط ہے۔" فرمایا کہ قبولیت کے واسطے جو ضروری شرط ہے وہ اضطراب ہے۔انسان جو دعا کرے تو صرف منہ سے الفاظ ادا کر کے نہیں، سطحی طور پر نہیں بلکہ دعا کے وقت ایک بیقراری ہو اور ایک بے چینی ہو۔پھر قبولیت دعا کے لئے یہ شرط بھی آپ نے بیان فرمائی کہ "جس کے واسطے انسان دعا کرتا ہو اس کے لئے دل میں درد ہو۔" ( ملفوظات جلد 10 صفحہ 137) (ملفوظات جلد 2 صفحہ 336) انسان اپنے لئے تو دعا کرتا ہے اور بڑے درد سے اسی طرح کرتا ہے جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اپنے قریبیوں، بیوی بچوں کے لئے بھی ان کی تکلیف کے وقت بڑے درد سے دعا کرتا ہے۔لیکن ہمارا کام یہ بھی ہے، ایک مومن کا یہ کام ہے کہ اپنے اس ذاتی دائرے سے باہر نکل کر جماعت کے لئے بھی بہت دعا کریں۔مسلم اللہ کے لئے بھی بہت دعا کریں۔اپنے اپنے ملکوں کے لئے بھی دعا کریں۔دنیا پر جو بھیانک خطرات منڈلا رہے ہیں ان کے دُور ہونے کے لئے بھی دعا کریں اور اس طرح دعا کریں جو دل میں درد کے ساتھ اٹھے۔