خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 308
خطبات مسرور جلد 15 308 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جون 2017 ہر وقت کے لئے ہے کہ "انی قریب۔"کہ میں تو تمہارے ہر وقت قریب ہوں۔پس آؤ اور میرے قرب سے فیض اٹھاتے رہو۔رمضان میں کیونکہ تم جماعتی رنگ اور ایک کوشش کے ساتھ میرے قریب آنے اور مجھ سے مانگنے کی کوشش کرتے ہو اس لئے میں اپنے خاص احسان کے تحت اپنی برکات میں اضافہ کر دیتا ہوں۔ورنہ دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی قربت کے حصول کا ذریعہ بتاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب رات کے درمیانی حصہ میں بندے کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔فرمایا پس اگر تم سے ہو سکے تو اس گھڑی تم اللہ کا ذکر کرنے والوں میں سے بن جاؤ یا اگر بن سکو تو ضر ور بنو۔(سنن الترمذى ابواب الدعوات باب منہ حدیث 3579) پس رمضان کے دنوں میں بہت سے لوگوں کو نفل پڑھنے کی جو عادت پڑی ہے اگر اس میں وہ با قاعدگی اختیار کرنے کی کوشش کریں اور اس کے لئے وہ دعا بھی کریں اور رات کو پختہ ارادہ کر کے سوئیں تو اللہ تعالیٰ کی اس قربت سے ہمیشہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اور جب اللہ تعالیٰ کا قرب ہو تو انسان اللہ تعالی کی پناہ میں اور اس کے حصار میں ہوتا ہے اور یہ قرب رات کی دعاؤں کے ساتھ دن کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کے ذکر اور عبادات سے حاصل ہوتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر الہی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے بڑے تنبیہ والے الفاظ میں فرمایا کہ ذکر الہی کرنے والے اور ذکر الہی نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ کی طرح ہے۔(صحيح البخارى كتاب الدعوات باب فضل ذكر الله عزوجل حدیث 6407) پس یہ زندگی کے سامان تو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے سارا سال ہی رکھے ہیں، قربت کے سامان تو ساراسال کے لئے رکھے ہیں۔قبولیت دعا کے سامان تو ہر وقت کے لئے مہیا فرمائے ہیں۔اپنے آپ کو صرف چند دنوں تک محدود کر کے باقی دنوں میں خدا تعالیٰ کی بات کی طرف توجہ نہ دینا انسان کو مردہ کر دیتا ہے۔اگر ہم نے حقیقی زندگی حاصل کرنی ہے تو پھر سال کے باقی گیارہ مہینوں میں بھی خدا تعالیٰ کو یاد رکھنا ضروری ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک جگہ تاکیداً اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اسے یاد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ اللہ کو زیادہ یاد کرو اور ذکر کی مثال ایسی سمجھو کہ جیسے کسی آدمی کا اس کے دشمن نہایت تیزی کے ساتھ پیچھا کر رہے ہوں یہاں تک کہ اس آدمی نے بھاگ کر ایک مضبوط قلعہ میں پناہ لی اور دشمن کے ہاتھ لگنے سے بچ گیا۔فرمایا کہ اسی طرح بندہ شیطان سے نجات نہیں پاسکتا مگر اللہ کی یاد کے ساتھ۔(سنن الترمذی ابواب الامثال باب ما جاء في مثل الصلوة۔۔۔الخ حديث 2863) پس اللہ تعالیٰ نے اپنے حصار میں صرف خاص دنوں میں ہی نہیں رکھا بلکہ اس کلائی قریب (البقرة: 187) کا اعلان ہر وقت اور ہر جگہ ہے۔اس کی مضبوط پناہ گاہیں ہر جگہ موجود ہیں اور ہر وقت موجود ہیں اور ہر وقت مومن کو