خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 307 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 307

خطبات مسرور جلد 15 307 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 جون 2017 جاری رکھے جو وہ رمضان میں کسی بھی صورت میں اپنی رحمت اور مغفرت کی وجہ سے کرتا رہا۔جنہوں نے اعلیٰ معیار حاصل کئے ان کے معیاروں کو بھی بڑھاتا چلا جائے اور جو معمولی کوشش کرتے رہے ان کی کوششوں کو بھی نوازتے ہوئے ان کے قدم بہتری کی طرف مستقل بڑھاتا رہے۔لیکن ہر شخص کو خود بھی اپنے لئے دعا کرنی چاہئے کہ اب ہمارے قدم پیچھے نہ ہٹیں بلکہ آگے بڑھتے رہیں اور کوشش بھی کرنی چاہئے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں ہم جہاں تک پہنچے ہیں ان سے قدم کبھی پیچھے نہ ہٹیں اور ہم کہیں پیچھے کی طرف پھسلنانہ شروع ہو جائیں اور نہ صرف وہاں قدم جمانے کی کوشش کریں بلکہ اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جانے کی اپنی اپنی استعدادوں کے مطابق کوشش بھی کریں اور دعا بھی مانگیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا کرتا ر تار ہے۔اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے بندوں کو جو دعا کی طرف توجہ دلائی ہے اور یہ کہا ہے کہ میں تمہارے قریب آجاتا ہوں اس میں صرف رمضان کے مہینہ کا ہی ذکر نہیں فرمایا بلکہ فرمایا کہ جو بھی بے چین ہو اور بے قرار ہو کر میری طرف دعا کرتے ہوئے آتا ہے میں اس کی دعا سنتا ہوں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔آمن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ (النمل: 63 ) وہ کون ہے جو بے قرار کی دعا سنتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور تکلیف دُور کر دیتا ہے۔آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ءَ الهُ مَّعَ الله (النمل: 63 ) کیا اللہ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہے جو یہ سب کچھ کر سکتا ہے ؟ یعنی کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے جو مضطر کی دعا سنتا ہے۔اس کی تکلیفوں کو ڈور کرتا ہے جب اس کو ایک شخص اضطراری حالت میں پکارے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ اس آیت کے حوالے سے فرمایا کہ: "خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں ایک جگہ پر اپنی شناخت کی یہ علامت ٹھہرائی ہے کہ تمہارا خداوہ خدا ہے جو بے قراروں کی دعاسنتا ہے۔" ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 259) پھر ایک جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن: 61 ) کہ تم مجھے پکارو میں تمہاری دعاسنوں گا۔پس جو کچھ روحانی فیض اٹھایا، ہم جو اللہ تعالیٰ کے قریب ہوئے اور قبولیت دعا کے بھی نظارے دیکھے وہ ہمیشہ کا ساتھ بن سکتے ہیں۔اگر ہماری کمزوریوں کے باوجود اللہ تعالیٰ نے ہمیں رمضان میں قبولیت دعا اور اپنے قرب کے نظارے دکھائے تو یہ اس بات کا احساس دلانے کے لئے ہیں اور یہ ہمیں اس طرف توجہ دلانے کے لئے ہیں کہ میں نے جو قرب تمہیں عطا کیا ہے اسے مستقل قائم رکھنے کی کوشش کرنا۔اللہ تعالیٰ پر کوئی پابندی نہیں ہے کہ وہ صرف رمضان کے مہینہ میں ہی قریب آئے گا یا کوئی شخص کوئی عمل کرے یا نہ کرے اس نے ضرور رمضان کے مہینہ میں ہی اسے قرب عطا کرنا ہے۔یہ مہینہ یا یہ دن جو اس نے خاص کئے ہیں تو یہ توجہ دلانے کے لئے کئے ہیں کیونکہ جب جماعتی طور پر اس طرف توجہ ہوتی ہے تو کمزور بھی اس طرف توجہ کرتے ہیں ورنہ اس کا یہ اعلان