خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 304

خطبات مسرور جلد 15 304 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جون 2017 کرتے تھے۔تھوڑی دیر کے لئے ہیٹنگ کرتے تھے۔چوہدری صاحب بھی بڑے اصولوں کے پابند رہے ہیں۔یہاں بڑی سادگی سے انہوں نے گزارہ کیا۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ 1955ء میں جب چوہدری ظہور باجوہ صاحب کو لندن سے واپس مرکز آنے کا حکم ہوا تو مر حومہ ان دنوں بیمار تھیں اور ڈاکٹروں نے مکمل طور پر بیڈ ریسٹ (bed rest) کے لئے کہا ہوا تھا۔لیکن جب واپسی کا حکم آیا تو چوہدری صاحب نے تیاری شروع کر دی۔لوگوں نے کہا کہ آپ کی اہلیہ بیمار ہیں تو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی سے کچھ عرصہ کے لئے اجازت لے لیں۔انہوں نے کہا نہیں حکم آیا ہے اس لئے واپس جانا ہے۔اور مرحومہ نے بھی اس پر کوئی بحث نہیں کی۔اس زمانے میں سفر بھی آسان نہیں تھے۔اور باوجود اپنی بیماری کے فوری طور پر خاوند کے ساتھ واپسی کے لئے تیار ہو گئیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ سے مغفرت کا سلوک فرمائے، درجات بلند کرے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسر اجنازہ مکرم عبدہ بکر صاحب کا ہے جو مصر کے تھے 12 جون کو دل کے حملے کے نتیجہ میں 41 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ڈاکٹر حاتم علمی شافعی صاحب صدر جماعت مصر لکھتے ہیں کہ مرحوم نے 2011ء میں بیعت کی تھی۔عربی اور دینیات کے مدرس تھے لیکن کام چھوڑ کر خود کو جماعتی خدمت کے لئے وقف کر دیا۔آپ جنوبی مصر کے ایک نہایت جاہل اور متعصب معاشرے میں پیدا ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود نہایت صلح پسند اور سخت گیری سے نہایت متنفر تھے۔بیعت سے قبل علماء کی کتب میں موجود خرافات نے انہیں اس قدر حیران کیا ہوا تھا کہ انہیں ڈر تھا کہ شاید ہمارا دین ہی بعض غلط باتیں سکھاتا ہو۔یعنی اسلام نعوذ باللہ غلط سکھاتا ہے۔مولویوں کی باتیں سن کے انہیں یہ خیال پیدا ہوا۔خصوصاً حیات مسیح، صلیب سے نجات اور رفع وغیرہ امور کے بارے میں سخت حیران تھے حتی کہ انہیں ایک عیسائی نے بعض عیسائی چینلز کے نمبر دیئے کہ وہاں پر پروگرام دیکھو تا کہ تمہیں یقین آئے کہ حضرت مسیح میں بہت سی ایسی صفات تھیں جو دیگر انسانوں میں نہیں تھیں۔اسی تلاش میں انہیں ایم ٹی اے بھی مل گیا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں ہدایت دینی تھی۔مرحوم اپنی بیعت کا ذکر کرتے ہوئے یہ واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں نے ایک پروگرام میں مصطفی ثابت صاحب مرحوم کو دیکھا جو کہہ رہے تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر فوت نہیں ہوئے بلکہ بیہوش ہوئے تھے اور پھر آپ نے مشرق کی طرف ہجرت کی اور طبعی وفات پائی۔جب میں ٹی وی دیکھ رہا تھا تو میں ٹیک لگائے بیٹھا تھا یہ بات سن کر میں سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور پوری توجہ کے ساتھ بات سننے لگا۔یہ الحوار المباشر کا پروگرام تھا۔جب حقیقت مجھ پر واضح ہوئی تو میں پورے زور سے چیخا کہ اللہ اکبر۔حق ظاہر ہو گیا۔کہتے ہیں میں خوشی سے اچھلنے لگا۔اسی دوران پروگرام میں وقفہ ہوا اور شریف عودہ صاحب نے اعلان کیا کہ اب ہم حضرت امام مہدی اور مسیح موعود علیہ السلام کا قصیدہ سنیں گے اور قصیدے کا مطلع تھا کہ اِنِّي مِنَ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْأَكْبَرِ یعنی