خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 303
خطبات مسرور جلد 15 303 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جون 2017 کی شادی ہوئی۔اگلے سال 1945ء میں ان کے ہاں بیٹا پیدا ہوا اور بیٹا ایک مہینے کا تھا تو اس وقت چوہدری ظہور باجوہ صاحب کو مبلغ کے طور پر لندن بھجوا دیا گیا اور تقسیم ہند و پاکستان جب ہوئی ہے تو باجوہ صاحب یہاں لندن میں تھے اور اس وقت بھی ان کی اہلیہ کو بعض مشکلات سے گزرنا پڑا۔پھر 1951ء سے 1955ء تک باجوہ صاحب کی اہلیہ محترمہ بھی ظہور باجوہ صاحب کے ساتھ یہاں انگلستان رہیں اور اس وقت یہاں مبلغین کے حالات بہت آسان نہ تھے۔جماعت کے مالی حالات بھی کمزور تھے۔بڑے مشکل حالات میں گزارہ ہو تا تھا۔لیکن انہوں نے کبھی شکوہ نہیں کیا اور بڑے آرام سے وہ وقت گزارا۔پھر ربوہ میں پہلے کوارٹروں میں رہتے تھے پھر دارالصدر شمالی میں اپنا گھر بنا لیا تو وہاں اپنے گھر میں رہیں اور کیونکہ زمیندار خاندان کے تھے اس لئے ہر وقت ان کے گاؤں کے یا عزیزوں کے بعض سٹوڈنٹ جو ربوہ میں پڑھنے کے لئے آتے تھے وہ اور دوسرے لوگ بھی ان کے گھر میں رہتے تھے۔گھر بھی اتنا بڑا نہیں تھا لیکن ہر وقت پندرہ ہیں آدمی ان کے گھر میں رہتے تھے اور ان کی مہمان نوازی یہ بڑے شوق سے کیا کرتی تھیں۔ان کے بیٹے نے لکھا ہے کہ روزانہ تہجد کے ساتھ آپ کے دن کا آغاز ہو تا تھا۔پھر نماز فجر کی ادائیگی کے بعد اونچی آواز میں قرآن کریم کی تلاوت کرنا آپ کا روز کا معمول تھا۔اس کے بعد کچھ بھینسیں وغیرہ رکھی ہوئی تھیں، جانور رکھے ہوئے تھے ، ان کا دودھ بلوتی تھیں اور پھر محلے کے جو غریب لوگ تھے وہ لسی لینے والے آجاتے۔ان کی ایک لمبی قطار ہوتی تھی۔انہیں لئی دیتی تھیں۔اور اس کے باوجو د گھر کو سنبھالنا اور ان سارے کام کرنے کے بعد باقی سوشل تعلقات بھی بڑے اچھے تھے۔لکھتے ہیں کہ قرآن کریم کے ساتھ آپ کو بہت محبت تھی اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ چھوٹی آپا حرم حضرت خلیفتہ المسیح ثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ نے قرآن شریف بھی پڑھا اور پھر ترجمہ بھی خاص طور پر پڑھا۔ہمیشہ ہر ایک سے خوش اخلاقی سے پیش آتی تھیں۔مہمان نوازی کا پہلے ذکر کر چکا ہوں۔یہاں بھی جب تھیں تو مہمان نوازی کے لئے اتنے فنڈ نہیں ہوتے تھے اور کوئی ضیافت کا انتظام نہیں تھا تو پھر انہوں نے یہاں بیکنگ (baking) سیکھی اور ہر آنے والے کو خود ہی بیکنگ (baking) کر کے مہمان نوازی کرتی تھیں اور چیزیں مہیا فرماتی تھیں۔حنیف محمود صاحب نائب ناظر اصلاح و ارشاد لکھتے ہیں کہ یہ چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب کی سوانح لکھ رہے تھے تو اس تعلق میں ان کے ساتھ رابطہ ہوتارہا اور یہ لکھتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ محترمہ اعلیٰ زمیندار خاندان کی تھیں لیکن جب ایک واقف زندگی سے بیاہ کے اس کے گھر میں آئی ہیں تو پھر بڑی معمولی زندگی گزاری۔وہاں اپنے گھر میں تو نوکروں کی کافی ریل پیل تھی اور نوکروں سے کام ہوتے تھے لیکن یہاں آکے خود اپنے ہاتھ سے سارے کام کئے۔کہتے ہیں کہ لندن میں قیام کے دوران کا واقعہ سناتے ہوئے بیان کرتی تھیں کہ بڑی تنگی سے گزر بسر ہوتی تھی۔شدید سردی کے موسم میں نہ گیزر کی سہولت تھی، نہ کمرے گرم کرنے کے لئے ہیٹر ہوتے تھے ، نہ کوئلے میسر تھے اور بجٹ کے اندر رہتے ہوئے جو بھی کام کرنا ہو تا تھا کرنا ہو تا تھا۔بڑی مشکلوں سے گزارا ہو تا تھا۔ٹھنڈ ٹھنڈ میں گزارہ