خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 302 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 302

خطبات مسرور جلد 15 302 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جون 2017 ہے۔فرمایا " نجات یافتہ کون ہے ؟ وہ جو یقین رکھتا ہے جو خدا سچ ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس میں اور تمام مخلوق میں درمیانی شفیع ہے۔" آپ کی سفارش اور آپ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان واسطہ ہیں۔فرمایا اور آسمان کے نیچے نہ اس کے ہم مرتبہ کوئی اور رسول ہے اور نہ قرآن کے ہم رتبہ کوئی اور کتاب ہے۔اور کسی کے لئے خدا نے نہ چاہا کہ وہ ہمیشہ زندہ رہے مگر یہ برگزیدہ نبی ہمیشہ کے لئے زندہ ہے۔" کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 12 تا 14) ان باتوں کے بعد پھر آپ نے دوبارہ تاکید فرمائی کہ " ان سب باتوں کے بعد پھر میں کہتا ہوں کہ یہ مت خیال کرو کہ ہم نے ظاہری طور پر بیعت کرلی ہے۔ظاہر کچھ چیز نہیں۔خدا تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔" کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 18) پس ہم میں سے ہر ایک کو رمضان میں سے یہ عہد کرتے ہوئے نکلنا چاہئے کہ جو باتیں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں اور جو باتیں ہمیں کھول کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمائیں ان کو ہم ہمیشہ سامنے رکھتے ہوئے ان کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے کی کوشش کریں۔اگر ہم یہ کریں تبھی ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رمضان میں سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکم کے مطابق ہم گزارنے کی کوشش کی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔نماز کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ایک جنازہ مکرمہ محترمہ مشتاق زہرہ صاحبہ کا ہے جو چوہدری ظہور احمد صاحب باجوہ مرحوم کی اہلیہ تھیں۔12 جون کو رات آٹھ بجکر پینتالیس منٹ پر ربوہ میں 91 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔اِنَّا لِلهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کے والد چوہدری عنایت اللہ صاحب تھے جنہوں نے چودہ سال کی عمر میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔محترمہ کا نکاح 1944ء میں چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب واقف زندگی کے ساتھ حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی نے پڑھا تھا اور اس میں ایک لمبا خطبہ دیا تھا جس میں اللہ تعالیٰ کے بعض خاص فضلوں کا ذکر فرمایا تھا۔بہر حال یہ تو ایک لمبا خطبہ ہے اور اس نکاح کی وجہ سے ہی پھر ان کے خاندان میں مزید احمدیت بھی پھیلی۔اللہ تعالیٰ نے مرحومہ کو تین بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ایک واقف زندگی بیٹا ظہیر باجوہ صاحب امریکہ میں ہیں۔چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب انگلستان میں مبلغ بھی رہے ہیں۔1955ء میں ربوہ واپس گئے اور پھر نائب ناظر اصلاح و ارشاد مقرر ہوئے۔ناظر زراعت رہے۔ناظر امور عامہ رہے۔لمبا عرصہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کے پرائیویٹ سیکرٹری بھی رہے۔ناظر تعلیم القرآن بھی رہے۔پھر آخر میں وفات کے وقت صدر ، صدر انجمن احمد یہ بھی تھے۔محترمہ مشتاق زہرہ صاحبہ نے اپنے واقف زندگی شوہر کے ساتھ بڑے اچھے طریقے سے وقت گزارا اور کبھی کوئی ایسی خواہش نہیں کی جس سے ایک واقف زندگی کو کوئی مشکل پیش آئے۔1944ء میں ان