خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 301
خطبات مسرور جلد 15 301 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 جون 2017 " ہے تو اپنی ہستی پر ایک انقلاب لانا چاہئے " اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔" فرماتے ہیں " تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں۔وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو۔" ذاتی آنا اور نفسانیت کو چھوڑو اور آپس میں اس وجہ سے ناراضگیاں نہ پیدا کرو اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل کرو تا تم بخشے جاؤ۔" فرماتے ہیں کہ "نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازے کے لئے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان " موٹا انسان " داخل نہیں ہو سکتا۔کیا ہی بد قسمت وہ شخص ہے جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔" فرماتے ہیں " جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم پر خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ایک ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ میں سے دو بھائی۔تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشا۔سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں' آپ فرماتے ہیں۔" بد کار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ظالم اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔خائن اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔اور ہر ایک جو اس کے نام کے لئے غیرت مند نہیں اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔۔۔آپ فرماتے ہیں "ہر ایک ناپاک آنکھ اُس سے دُور ہے۔ہر ایک ناپاک دل اس سے بے خبر ہے۔وہ جو اس کے لئے آگ میں ہے وہ آگ سے نجات دیا جائے گا۔وہ جو اس کے لئے روتا ہے وہ ہنسے گا۔وہ جو اس کے لئے دنیا سے توڑتا ہے وہ اس کو ملے گا۔تم سچے دل سے اور پورے صدق سے اور سر گرمی کے قدم سے خدا کے دوست بنو تا وہ بھی تمہارا دوست بن جائے۔تم ماتحتوں پر اور اپنی بیویوں پر اور اپنے غریب بھائیوں پر رحم کرو تا آسمان پر تم پر بھی رحم ہو۔تم سچ سچ اس کے ہو جاؤ تا وہ بھی تمہارا ہو جاوے فرمایا " کوئی آفت زمین پر پیدا نہیں ہوتی جب تک آسمان سے حکم نہ ہو۔اور کوئی آفت دور نہیں ہوتی جب تک آسمان سے رحم نازل نہ ہو۔سو تمہاری عقلمندی اسی میں ہے کہ تم جڑ کو پکڑو نہ شاخ کو فرمایا " تمہارے لئے ایک ضروری تعلیم یہ ہے کہ قرآن شریف کو مہجور کی طرح نہ چھوڑ دو کہ تمہاری اسی میں زندگی ہے۔" قرآن کریم کی تعلیم کو ہمیشہ پکڑ کے رکھو۔فرماتے ہیں "جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے۔جو لوگ ہر ایک حدیث اور ہر ایک قول پر قرآن کو مقدم رکھیں گے ان کو آسمان پر مقدم رکھا جائے گا۔نوع انسان کے لئے رُوئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن۔اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔سو تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ و جلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تا آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔اور یاد رکھو کہ نجات وہ چیز نہیں جو مرنے کے بعد ظاہر ہو گی بلکہ حقیقی نجات وہ ہے کہ اسی دنیا میں اپنی روشنی دکھلاتی