خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 4
خطبات مسرور جلد 15 4 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 جماعت منجیری سے ایک صاحب تعلق رکھتے ہیں Rexine کا کاروبار ہے۔کہتے ہیں چندہ وقف جدید کی وصولی کے لئے میں ان کی دکان پر گیا تو کہنے لگے ان کا کافی پیسہ پھنسا ہوا ہے اس لئے بہت دقت پیش آرہی ہے۔لیکن اس کے باوجود موصوف نے ایک بھاری رقم کا چیک دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت تو اکاؤنٹ میں اتنے پیسے نہیں ہیں مگر دعا کریں کہ خاکسار جلد جلد اس کی ادائیگی کر سکے۔کہتے ہیں اگلے روز ہی ان کا فون آیا کہ اللہ کے فضل سے چیک دینے کے بعد میرے اکاؤنٹ میں کافی بڑی رقم آگئی ہے اس لئے آپ اپنا چیک کیش کرالیں اور کہنے لگے کہ یہ صرف چندے کی برکت سے ہے کہ اتنی جلدی اللہ تعالیٰ نے یہ سامان پیدا کر دیا۔پھر مشرقی افریقہ کے ایک ملک تنزانیہ میں رہنے والی ایک بیوہ خاتون کی مثال ہے جس کے بارے میں تنزانیہ کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ار نگا ٹاؤن کے معلم صاحب ایک بیوہ خاتون امینہ کے پاس چندہ وقف جدید کی ادائیگی کے لئے گئے تو انہوں نے بڑے افسردہ دل سے کہا کہ اس وقت پاس کچھ نہیں مگر جو نہی کہیں سے انتظام ہوا تو میں لے کر خود حاضر ہو جاؤں گی۔معلم صاحب ابھی گھر بھی نہیں پہنچے تھے کہ وہ خاتون دس ہزار شلنگ لے کر حاضر ہوئی اور بتایا کہ یہ رقم کہیں سے آئی تھی تو سوچا کہ آپ کو دے آؤں۔پہلے چندہ ادا کر دوں۔اپنے خرچ بعد میں پورے کروں گی۔کہنے لگیں میر اوعدہ پچیس ہزار کا ہے باقی پندرہ ہزار بھی جو نہی مجھے ملے میں لے کے آجاؤں گی۔چنانچہ دس منٹ کے بعد وہ دوبارہ رقم لے کر آگئیں اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا سلوک دیکھیں کہ میں دس ہزار جو اس کی راہ میں دے کر گئی تھی ابھی گھر بھی نہیں پہنچی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے پینتیس ہزار بھجوا دیے اور جس میں سے پندرہ ہزار بقایا چندہ ادا کرنے کے بعد بھی میرے پاس ہیں ہزار بچ جاتے ہیں۔یہ محض اللہ تعالیٰ کی عطا ہے اور چندے کی برکت ہے اور اس طرح ان کا ایمان بڑھا۔پھر سینٹرل افریقہ کا ایک ملک کو نگو ہے۔وہاں کے لوگوں میں کس طرح قربانی کی روح قائم ہوئی اور کس قدر قربانی کی روح ہے، اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں۔وہاں کے مبلغ رمیض صاحب لکھتے ہیں کہ کالومبائی (Kalombayi) جماعت کے ایک داعی الی اللہ سعیدی صاحب ارد گرد کی پانچ جماعتوں کا دورہ کرتے ہیں۔تبلیغ کرتے ہیں۔آجکل وہاں ملک کے حالات خراب ہیں اور سکیورٹی کے مخدوش حالات کے باوجود انہوں نے اپنے حلقے کی تمام جماعتوں کا دورہ کیا۔دورہ کرنے کے لئے باوجود اچھے حالات نہ ہونے کے ثواب کے حصول کے لئے کرایہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا۔اس طرح دورے میں انہوں نے ترتین ہزار چندہ وقف جدید اکٹھا کیا اور جمع کرایا۔کہنے لگے کہ میں ایک پرانا احمدی ہوں اور مجھے نوجوانوں کے لئے نمونہ بننا چاہئے۔اب پر انے احمدی وہاں کتنے پرانے ہوں گے ؟ زیادہ سے زیادہ پندرہ بیس سال ؟ ان کی عمر ساٹھ سال سے زائد ہے لیکن بڑی محنت سے ایک تو تبلیغ کا کام کر رہے ہیں دوسرے ساتھ ساتھ چندے کی طرف بھی لوگوں کو توجہ دلاتے ہیں۔یہ روح ہے جو حضرت مسیح موعود