خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 3
خطبات مسرور جلد 15 3 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 پڑے گا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس کلام کو سمجھتے ہیں جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَمَثَلُ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَتَثْبِيتًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍ بِرَبِّوَةٍ أَصَابَهَا وَابِلٌ فَأَتَتْ أُكُلَهَا ضِعْفَيْنِ فَإِن لَّمْ يُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلْ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرُ۔(البقرۃ:266) اور ان لوگوں کی مثال جو اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے اور اپنے نفوس میں سے بعض کو ثبات دینے کے لئے خرچ کرتے ہیں ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی جگہ پر واقع ہو اور اسے تیز بارش پہنچے تو وہ بڑھ چڑھ کر اپنا پھل لائے اور اگر اسے تیز بارش نہ پہنچے تو شبنم ہی بہت ہو۔اور اللہ اس پر جو تم کرتے ہو گہری نظر رکھنے والا ہے۔پس غریب لوگوں کی یہ قربانی کل یعنی شبنم کی طرح ہے۔یہ ذراسی نمی جو ان کی معمولی قربانی سے دین کے باغ کو ملتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیشمار پھل لاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ باوجود ہم ایک غریب جماعت ہونے کے دنیا میں ہر جگہ اشاعت اسلام اور خدمت خلق کے کام کو کر رہے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کاموں میں برکت بھی اللہ تعالیٰ اس قدر ڈالتا ہے کہ دنیا حیران ہوتی ہے کہ اتنے تھوڑے وسائل سے تم اتنا زیادہ کام کس طرح کر لیتے ہو۔یہ اس لئے ہوتے ہیں کہ یہ قربانیاں کرنے والے وہ لوگ ہیں جو ان لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں جن کی مثال اللہ تعالیٰ نے اس طرح دی ہے کہ فرمایا يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاء مَرْضَاتِ اللہ اپنے اموال اللہ کی رضا چاہتے ہوئے خرچ کرتے ہیں۔اور جب اللہ تعالیٰ کی رضا مقصد ہو تو پھل بھی بہت لگتے ہیں، برکت بھی بہت پڑتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ان قربانیوں کی آج بھی مثالیں ہیں بلکہ بیشمار مثالیں ہیں۔ان میں سے چند پیش کرتا ہوں۔قادیان سے ہزاروں میل دور رہنے والی ایک بچی جب احمدیت اور حقیقی اسلام کی آغوش میں آتی ہے تو اس کی سوچ کس طرح تبدیل ہو جاتی ہے اور قربانی کا اسے کیا ادراک حاصل ہو جاتا ہے۔اس کا واقعہ اس بچی کی زبانی سن لیں۔یہ بچی یوگنڈا میں رہنے والی ہے۔ان پڑھ نہیں بلکہ یونیورسٹی میں پڑھ رہی ہے۔کہتی ہے کہ گذشتہ جولائی میں مجھے یونیورسٹی کے داخلہ سے پہلے کچھ چیزیں خریدنی تھیں لیکن اس کے لئے رقم نا کافی تھی اور میر اچندہ بھی بقایا تھا سو میں نے وہ رقم چندے کے لئے دے دی۔میر اپختہ ایمان تھا کہ اللہ تعالیٰ ضرور میری مدد کرے گا اور میں مطمئن تھی کہ میں نے اپنا چندہ ادا کر دیا۔ایک مہینے کے بعد جب ابھی یونیورسٹی کھلنے میں تین دن باقی تھے تو میری ایک آنٹی نے میری ماں کو فون کیا کہ میں کب یونیورسٹی جارہی ہوں اور مجھے اپنے گھر بلایا۔جب میں شام کو ان کے گھر گئی تو انہوں نے مجھے کچھ رقم پکڑائی جو میری یونیورسٹی کی ضروریات سے کہیں زیادہ تھی۔اور یہ رقم چندہ میں دی گئی رقم سے دس گنا زیادہ تھی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے میری دعاؤں کو سنا اور ایسی جگہ سے میری مدد کی جہاں سے مجھے امید بھی نہیں تھی۔پھر انڈیا کے ایک صاحب ہیں ان کے بارے میں وہاں کے انسپکٹر قمر الدین صاحب لکھتے ہیں کہ کیرالہ کی