خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 289
خطبات مسرور جلد 15 289 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 پر موقوف ہے۔وہ چاہے تو اس کو قائم رکھے اور چاہے تو دور کر دے۔" پھر آپ فرماتے ہیں: " پس سچی معرفت اسی کا نام ہے کہ انسان اپنے نفس کو مسلوب اور لاشیں محض سمجھے اور آستانہ الوہیت پر گر کر انکسار اور عجز کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فضل کو طلب کرے اور اس نور معرفت کو مانگے جو جذبات نفس کو جلا دیتا ہے اور اندر ایک روشنی اور نیکیوں کے لئے قوت اور حرارت پیدا کرتا ہے۔پھر اگر اس کے فضل سے اس کو حصہ مل جاوے اور کسی وقت کسی قسم کا بسط اور شرح صدر حاصل ہو جاوے تو اس پر تکبر اور ناز نہ کرے۔" اگر اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا ہو جائے، دعاؤں کی قبولیت کے نظارے دیکھنے لگے، ایک خاص قسم کی دل میں تسکین پیدا ہو جائے تو پھر اس پہ تکبر اور ناز نہ کرو " بلکہ اس کی فروتنی اور انکسار میں اور بھی ترقی ہو۔" اس تعلق کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ کے فضل کی وجہ سے مزید انکسار میں بڑھو " کیونکہ جس قدر وہ اپنے آپ کو لاشی سمجھے گا اسی قدر کیفیات اور انوار خدا تعالیٰ سے اتریں گے جو اس کو روشنی اور قوت پہنچائیں گے۔اگر انسان یہ عقیدہ رکھے گا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اخلاقی حالت عمدہ ہو جائے گی۔دنیا میں اپنے آپ کو کچھ سمجھنا بھی تکبر ہے اور یہی حالت بنادیتا ہے۔پھر انسان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ دوسرے پر لعنت کرتا ہے اور اسے حقیر سمجھتا ہے۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 275 تا 277) تکبر دور کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اپنے ہر خُلق کو انسان اللہ تعالی کی طرف منسوب کرے۔ہر اچھی بات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرے۔اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " در حقیقت یہ گند جو نفس کے جذبات کا ہے اور بد اخلاقی، کبر،ریا وغیر ہ صورتوں میں ظاہر ہوتا ہے اس پر موت نہیں آتی جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہو اور یہ مواد ر ڈ یہ جل نہیں سکتے جب تک معرفت کی آگ ان کو نہ جلائے۔جس میں یہ معرفت کی آگ پیدا ہو جاتی ہے وہ ان اخلاقی کمزوریوں سے پاک ہونے لگتا ہے اور بڑا ہو کر بھی اپنے آپ کو چھوٹا سمجھتا ہے اور اپنی ہستی کو کچھ حقیقت نہیں پاتا۔وہ اس نور اور روشنی کو جو انوار معرفت سے اسے ملتی ہے اپنی کسی قابلیت اور خوبی کا نتیجہ نہیں مانتا اور نہ اسے اپنے نفس کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ وہ اسے خدا تعالیٰ ہی کا فضل اور رحم یقین کرتا ہے۔جیسے ایک دیوار پر آفتاب کی روشنی اور دھوپ پڑ کر اسے منور کر دیتی ہے لیکن دیوار اپنا کوئی فخر نہیں کر سکتی۔" سورج کی روشنی دیوار پر پڑتی ہے اور وہ روشن ہو جاتی ہے تو دیوار کو اس پر کوئی فخر نہیں کہ یہ روشنی میری قابلیت کی وجہ سے ہے۔" فرماتے ہیں " یہ ایک دوسری بات ہے کہ جس قدر وہ دیوار صاف ہو گی اسی قدر روشنی زیادہ صاف ہو گی۔" دیوار صاف اور چمکیلی ہو تو روشنی زیادہ چمک کے ظاہر ہو گی۔"لیکن کسی حال میں دیوار کی ذاتی قابلیت اس روشنی کے لئے کوئی نہیں بلکہ اس کا فخر آفتاب کو ہے اور ایسا ہی وہ آفتاب کو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ تو اس روشنی کو اٹھالے۔" فرماتے ہیں کہ " اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے نفوس صافیہ ہوتے