خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 288 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 288

288 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 خطبات مسرور جلد 15 کرے گا اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے موادِر ڈیہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی۔" جذبات کے جو رڈ کرنے والے چیزیں ہیں جذبات ہیں جو جو غلط قسم کے جذبات ہیں ان کو ختم کرنے کے لئے جو معرفت مل سکتی ہے وہ معرفت اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک انسان تکبر سے نہ بچے اور عاجزی اختیار نہ کرے۔فرمایا " کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور کہہ دیا اَنَا خَيْرٌ مِّنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَّارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طين۔(الاعراف: 13) " پھر " اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور سے مردود ہو گیا۔اور آدم لغزش پر (چونکہ اسے معرفت دی گئی تھی اس کو معرفت ملی تھی) اپنی کمزوری کا اعتراف کرنے لگا اور خدا تعالیٰ کے فضل کا وارث ہوا۔وہ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اس لئے دعا کی۔رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الخَسِرِينَ (الاعراف:24)" یہ دعا پڑھنے کے لئے بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو نصیحت فرمائی ہے۔یہ دعا پڑھتے رہنا چاہئے۔آجکل بھی آخری عشرے سے گزر رہے ہیں، آگ سے بچنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کارحم حاصل کرنے کے لئے ، ان دعاؤں کی بہت ضرورت ہے۔آپ فرماتے ہیں: " یہی وہ ستر ہے " یہ راز ہے " جو حضرت عیسی علیہ السلام کو کہا گیا کہ اے نیک استاد تو انہوں نے کہا کہ تُو مجھے نیک کیوں کہتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " آجکل کے نادان عیسائی تو یہ کہتے ہیں کہ ان کا مطلب اس فقرہ سے یہ تھا کہ تُو مجھے خدا کیوں نہیں کہتا؟ حالانکہ حضرت مسیح نے بہت ہی لطیف بات کہی تھی جو انبیاء علیہم السلام کی فطرت کا خاصہ ہے۔وہ جانتے تھے کہ حقیقی نیکی تو خدا تعالیٰ سے ہی آتی ہے۔وہی اس کا چشمہ ہے اور وہیں سے وہ اترتی ہے۔وہ جس کو چاہے عطا کرے اور جب چاہے سلب کر لے۔مگر ان نادانوں نے ایک عمدہ اور قابل قدر بات کو معیوب بنادیا اور حضرت عیسی کو متکبر ثابت کیا حالانکہ وہ ایک منکسر المزاج انسان تھے۔" پھر پاک ہونے کا ایک طریق بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: "میرے نزدیک پاک ہونے کا یہ عمدہ طریق ہے اور ممکن نہیں کہ اس سے بہتر کوئی اور طریق مل سکے کہ انسان کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کرے۔" پاک ہونا ہے تو کسی قسم کا تکبر اور فخر نہ کروا نہ علمی، نہ خاندانی، نہ مالی۔جب خد اتعالیٰ کسی کو آنکھ عطا کرتا ہے تو وہ دیکھ لیتا ہے کہ ہر ایک روشنی جو ان ظلمتوں سے نجات دے سکتی ہے وہ آسمان سے ہی آتی ہے اور انسان ہر وقت آسمانی روشنی کا محتاج ہے۔آنکھ بھی دیکھ نہیں سکتی جب تک سورج کی روشنی جو آسمان سے آتی ہے نہ آئے۔اسی طرح باطنی روشنی جو ہر ایک قسم کی ظلمت کو دور کرتی ہے اور اس کی بجائے تقویٰ اور طہارت کا نور پیدا کرتی ہے آسمان ہی سے آتی ہے۔میں سچ سچ کہتا ہوں کہ انسان کا تقویٰ، ایمان، عبادت، طہارت ، سب کچھ آسمان سے آتا ہے اور یہ خدا تعالیٰ کے فضل