خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 290
290 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 خطبات مسرور جلد 15 ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فیضان اور فیوض سے معرفت کے انوار اُن پر پڑتے ہیں اور ان کو روشن کر دیتے ہیں۔اسی لئے وہ ذاتی طور پر کوئی دعویٰ نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فیض کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں اور یہی سچ بھی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا آپ اعمال سے داخل جنت ہوں گے تو یہی فرمایا کہ ہر گز نہیں۔بلکہ " خدا تعالیٰ کے فضل سے۔" فرمایا کہ " انبیاء علیہم السلام کبھی کسی قوت اور طاقت کو اپنی طرف منسوب نہیں کرتے۔وہ خدا ہی سے پاتے ہیں اور اسی کا نام لیتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد 7 صفحہ 274-275) پس انبیاء جو اللہ تعالیٰ کے خاص بندے ہیں ان کا یہ حال ہے تو ایک عام انسان کو کتنی عاجزی دکھانی چاہئے اور کتنا اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر شکر گزار ہوتے ہوئے مزید جھکتے چلے جانا چاہئے۔تکبر انسان میں روحانی موت لاتا ہے اور خدا تعالیٰ سے انسان دور ہو جاتا ہے، اس بات کو بیان فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ : " اللہ تعالیٰ بہت رحیم و کریم ہے۔وہ ہر طرح انسان کی پرورش فرماتا اور اس پر رحم کرتا ہے اور اسی رحم کی وجہ سے وہ اپنے ماموروں اور مرسلوں کو بھیجتا ہے تا وہ اہل دنیا کو گناہ آلو د زندگی سے نجات دیں۔مگر تکبر بہت خطرناک بیماری ہے۔جس انسان میں یہ پیدا ہو جاوے اس کے لئے روحانی موت ہے۔" فرمایا کہ " میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ بیماری قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔متکبر شیطان کا بھائی ہو جاتا ہے۔اس لئے کہ تکبر نے ہی شیطان کو ذلیل و خوار کیا۔اس لئے مومن کی یہ شرط ہے کہ اس میں تکبر نہ ہو بلکہ انکسار ، عاجزی، فروتنی اس میں پائی جائے اور یہ خدا تعالیٰ کے ماموروں کا خاصہ ہوتا ہے۔ان میں حد درجہ کی فروتنی اور انکسار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ وصف تھا۔آپ کے ایک خادم سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ آپ کا کیا معاملہ ہے ؟" خادم سے پوچھا کس طرح آپ تمہارے ساتھ سلوک کرتے ہیں " اس نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ مجھ سے زیادہ وہ میری خدمت کرتے ہیں۔(اللَّهُمَ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِكْ وَسَلَّمْ) ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 101) جماعت کو اس بارے میں نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: " عام طور پر تکبر دنیا میں پھیلا ہوا ہے۔علماء اپنے علم کی شیخی اور تکبر میں گرفتار ہیں۔فقراء کو دیکھو تو ان کی بھی حالت اور ہی قسم کی ہو رہی ہے۔ان کو اصلاح نفس سے کوئی کام ہی نہیں رہا۔" ہر ایک تکبر میں مبتلا ہے۔اپنی اصلاح کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں۔فرماتے ہیں ان کی غرض وغایت صرف جسم تک محدود ہے۔اس لئے ان کے مجاہدے اور ریاضتیں بھی کچھ اور ہی قسم کی ہیں جیسے ذکر آرہ وغیرہ۔جن کا چشمہ نبوت سے پتا نہیں چلتا۔"