خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 287
خطبات مسرور جلد 15 287 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 اس لئے متقی اپنی زبان کو بہت ہی قابو میں رکھتا ہے۔اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی جو تقویٰ کے خلاف ہو۔پس تم اپنی زبان پر حکومت کرو نہ یہ کہ زبانیں تم پر حکومت کریں اور آناپ شناپ بولتے رہو۔" ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 423) انسان کو اپنی زبان پر کنٹرول ہونا چاہئے۔یہ زبان پر حکومت ہے۔نہ یہ کہ جو زبان میں آئے انسان نے بول دیا۔اس سے پھر جھوٹ سچ ہر بات نکلتی جاتی ہے اور پھر فتنہ اور فساد پیدا ہوتے ہیں۔پس ہر وقت یہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہماری زبان ہمیشہ سچائی کے اس معیار پر قائم ہو جو نہ صرف یہ ہے کہ شرک سے محفوظ رکھنے والی ہو بلکہ تقویٰ کے معیاروں کو بھی حاصل کرنے والی ہو۔اس سے محفوظ رہے۔جھوٹ میں ملوث لوگوں کی مختلف حالتیں جو میں نے اس مضمون کے حوالے سے بیان کی تھیں انہیں سامنے رکھ کر ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا کسی قسم کے جھوٹ میں ہم ملوث تو نہیں۔اگر ہیں تو کس طرح اس سے نجات حاصل کرنی ہے۔نجات حاصل کرنے کا ذریعہ تو اللہ تعالیٰ نے بتادیا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس بات کو سمجھنے کی توفیق دے اور بلکہ سچائی سے بڑھ کر آگے قول سدید پر قائم ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔پھر ایک اہم نیکی جو مومن کا خُلق ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتی ہے وہ عاجزی اور تکبر سے ڈوری ہے۔چنانچہ ایک جگہ تکبر کرنے والے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تُصَعِرُ خَدَّكَ لِلنَّاسِ وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (لقمان:19) کہ اور نخوت سے انسانوں کے لئے اپنے گالوں کو نہ ؟ و نہ پھلاؤ اور زمین میں یو نہی اکڑتے ہوئے نہ پھرا کرو۔اللہ تعالیٰ کسی تکبر کرنے والے اور فخر و مباہات کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس مضمون کو بڑی جگہ بیان فرمایا ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ "ایسے لوگ ہیں جو انبیاء علیہم السلام سے حالانکہ کروڑوں حصہ نیچے کے درجہ میں ہوتے ہیں " ان کا کوئی مقابلہ ہی نہیں انبیاء کے ساتھ۔کہتے ہیں " جو دو دن نماز پڑھ کر تکبر کرنے لگتے ہیں۔اور ایسا ہی روزہ اور حج سے بجائے تزکیہ کے ان میں تکبر اور نمود پیدا ہوتی ہے۔" آجکل بھی، رمضان میں بھی بعض لوگ عبادت کرتے ہیں۔ذرا موقع مل جاتا ہے یا کوئی سچی خوابیں آجائیں تو اس کی وجہ سے بے انتہا فخر ہو جاتا ہے۔اس سے بچنا چاہئے۔استغفار کرنی چاہئے۔آپ فرماتے ہیں کہ : " یاد رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے۔جب تک انسان اس سے ڈور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضان الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے۔نہ علم کے لحاظ سے۔نہ دولت کے لحاظ سے۔نہ وجاہت کے لحاظ سے۔نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ