خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 286 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 286

خطبات مسرور جلد 15 286 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 نہیں کیا اور انصاف اور راستی کے لئے وصیت کی " فرماتے ہیں "میں سچ سچ کہتا ہوں کہ دشمن سے مدارات سے پیش آنا آسان ہے مگر دشمن کے حقوق کی حفاظت کرنا اور مقدمات میں عدل اور انصاف کو ہاتھ سے نہ دینا یہ بہت مشکل اور فقط جو انمر دوں کا کام ہے۔" آپ فرماتے ہیں "اکثر لوگ اپنے شریک دشمنوں سے محبت تو کرتے ہیں اور میٹھی میٹھی باتوں سے پیش آتے ہیں مگر ان کے حقوق دبا لیتے ہیں۔" حق دبانے کے لئے جھوٹ بول جاتے ہیں۔انصاف سے کام نہیں لیتے۔جھوٹ بولتے ہیں۔فرماتے ہیں " ایک بھائی دوسرے بھائی سے محبت کرتا ہے اور محبت کے پردہ میں دھوکا دے کر اس کے حقوق دبا لیتا ہے۔" پھر آپ نے اس کی مثال دی فرمایا " مثلاً اگر زمیندار ہے تو چالاکی سے اس کا نام کاغذات بندوبست میں نہیں لکھواتا۔" جو کاغذات ہوتے ہیں، سرکاری رجسٹریاں وہاں نام نہیں لکھواتا اور یوں اتنی محبت کہ اس پر قربان ہوا جاتا ہے۔" بہت سارے کیس ایسے آتے ہیں۔جھوٹے طور پر بعض رشتہ دار عزیز اپنے رشتہ داروں کی جائیدادوں کے کاغذات بدلوا لیتے ہیں یا نام نہیں لکھواتے یا صحیح طرح گواہی نہیں دیتے اور ان کو مالی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ " پس خدا تعالیٰ نے اس آیت میں محبت کا ذکر نہ کیا بلکہ معیار محبت کا ذکر کیا۔کیونکہ جو شخص اپنے جانی دشمن سے عدل کرے گا اور سچائی اور انصاف سے در گزر نہیں کرے گا وہی ہے جو سچی محبت بھی کرتا ہے۔" ( نور القرآن نمبر 2 ، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 409-410) پس یہ معیار ہے کہ صرف عارضی مفادات کے لئے نہیں، عام روز مرہ کے معاشرتی معاملات تک ہی نہیں بلکہ ایک مومن کے سچائی کے معیار وہ ہوں کہ ایک دشمن کو بھی نقصان پہنچانے کے لئے جھوٹ نہیں بولنا۔جب دشمن سے سچائی کے یہ معیار ہوں گے تو پھر آپس کے تعلقات میں بھی سچائی کے معیار بڑھنے کی وجہ سے محبت کے معیار بڑھیں گے اور محبت میں جھوٹ نہیں ہوتا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ کسی سے محبت بھی ہو اور پھر جھوٹ بھی بولا جائے کیونکہ محبت بے اختیار ہوتی ہے۔پس یہ وہ معیار ہیں جو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پھر جب سچائی کے ایسے معیار ہوں گے تو پھر ایک بھائی کو انسان کسی بھی قسم کا دھو کہ نہیں دے سکتا۔سچائی کی اہمیت بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : "حرام خوری اس قدر نقصان نہیں پہنچاتی جیسے قول زور ، " جھوٹی بات۔" اس سے کوئی یہ نہ سمجھ بیٹھے کہ حرام خوری اچھی چیز ہے۔یہ سخت غلطی ہے اگر کوئی ایسا سمجھے " تو غلط ہے۔فرماتے ہیں کہ "میر امطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو اضطراراسور کھالے تو یہ امر دیگر ہے۔لیکن اگر وہ اپنی زبان سے خنزیر کا فتوی دے دے تو وہ اسلام سے ڈور نکل جاتا ہے۔"اضطراری طور پر سور کا گوشت کھانے کی اجازت ہے۔بھوکا مر رہا ہے تو کھالے اور چیز ہے۔لیکن زبان سے فتویٰ دے دینا کہ سور کھانا جائز ہے یہ جو ہے انسان کو اسلام سے دور کر دیتا ہے۔فرماتے ہیں کہ اس طرح انسان اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال ٹھہراتا ہے۔" پھر فرماتے ہیں "غرض اس سے معلوم ہوا کہ زبان کا زیان خطر ناک ہے۔