خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 285

خطبات مسرور جلد 15 285 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16جون 2017 کہ "سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج: 31) یعنی بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بت سے کم نہیں۔" فرمایا کہ "جو چیز قبلہ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے " جو سچائی سے تمہارا منہ پھیرتی ہے۔سچائی سے دوسری طرف لے کر جاتی ہے "وہی تمہاری راہ میں بت ہے۔سچی گواہی دو اگر چہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔چاہئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔" (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 550) انصاف سے ہٹو گے تو جھوٹ بھی ہو گا۔کسی عیسائی نے یہ اعتراض کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اور اپنے دین کو چھپانے کے لئے قرآن میں صاف حکم دے دیا ہے کہ جھوٹ بولو۔اور جبکہ انجیل میں یہ اجازت کسی قسم کی نہیں ہے۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ: واضح ہو کہ جس قدر راستی کے التزام کے لئے قرآن شریف میں تاکید ہے میں ہر گز باور نہیں کر سکتا کہ " انجیل میں اس کا عشر عشیر بھی تاکید ہو۔۔۔۔آپ فرماتے ہیں کہ " قرآن شریف نے دروغگوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج: 31) یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا كُونُوا قَوْمِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ (النساء: 136) یعنی اے ایمان والو انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو للہ ادا کرو اللہ کے لئے ادا کر و اگر چہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھاویں۔" (نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 402-403) پس یہ معیار ہے سچائی کا۔بیشک یہ انصاف کا بھی معیار ہے۔لیکن انصاف قائم نہیں ہوتا اس وقت تک جب تک سچائی نہ ہو۔پس یہ معیار ہیں جو ایک مومن کے لئے ضروری ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: " خدا تعالیٰ نے عدل کے بارے میں جو بغیر سچائی پر پورا قدم مارنے کے حاصل نہیں ہو سکتی فرمایا ہے۔لَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا - اِعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقوی۔(المائدہ:9) یعنی دشمن قوموں کی دشمنی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔" فرمایا کہ " انصاف پر قائم رہو کہ تقویٰ اسی میں ہے۔" فرماتے ہیں "اب آپ کو معلوم ہے کہ جو قومیں ناحق ستاویں اور دکھ دیویں اور خونریزیاں کریں اور تعاقب کریں اور بچوں اور عورتوں کو قتل کریں جیسا کہ مکہ والے کافروں نے کیا تھا۔پھر لڑائیوں سے باز نہ آویں۔ایسے لوگوں کے ساتھ معاملات میں انصاف کے ساتھ برتاؤ کرنا کس قدر مشکل ہوتا ہے۔مگر قرآنی تعلیم نے ایسے جانی دشمنوں کے حقوق کو بھی ضائع