خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 284
خطبات مسرور جلد 15 284 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 علیحدہ فیصد شرح نکالی ہوئی ہے۔تو ان میں غلطیاں چھپانے والے مالی منفعت والے اور جو دوسرے متفرق مفادات ہیں وہ حاصل کرنے کے لئے اور لوگوں سے بچنے کے لئے نہ ملنے کے لئے جھوٹ بولے جاتے ہیں اور جب کوئی غلطی کرتا ہے تو پھر آدمی بچتا بھی ہے۔تو ان کا سروے یہ کہتا ہے کہ سب سے زیادہ جھوٹ بولنے کی شرح ان چار چیزوں میں ہے۔غلطیاں چھپانا ، مالی منفعت ، دوسرے مفادات اور لوگوں سے بچنا۔(National Geographic June 2017 "why we lie" p: 36-51) تو یہ تو ان لوگوں کا حال ہے جن کو ہمارے میں سے بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کا سچائی کا معیار ہمارے سے بہتر ہے۔اگر یہ لوگ ہمارے لئے معیار ہیں تو پھر ایک مومن کہلانے والے کے لئے قابل فکر بات ہے۔یہ لوگ تو ویسے ہی خدا تعالیٰ کو نہیں مانتے یا شرک کرنے والے ہیں لیکن ہم جو ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور دین کی تعلیم پر عمل کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ اگر سچائی سے ہٹیں گے تو وہ نہ صرف دین سے دُور ہٹتے ہیں بلکہ شرک کے بھی مر تکب ہو رہے ہوتے ہیں۔پس ہمیں اپنی سچائی کے معیاروں کو پرکھنے کی ضرورت ہے۔ان پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالی گواہیوں کے بارے میں فرماتا ہے کہ جھوٹی گواہیاں نہ دو۔چنانچہ عباد الرحمن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ (الفرقان: 73)۔اور وہ لوگ جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔پس ہماری گواہیاں نہ مالی منفعت کے لئے یا مفادات کے لئے جھوٹی ہونی چاہئیں اور نہ کسی اور مقصد کے لئے یہ جھوٹی ہونی چاہئیں۔کیونکہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ رحمان خدا کے بندے بنیں اور ایمان میں بڑھیں تو پھر ان جھوٹوں سے بچنا ہو گا بلکہ شیطان سے بچنے کے لئے بھی ضروری ہے اور چونکہ جھوٹ بولنے سے رحمان خدا سے قطع تعلقی ہو گی، اس سے تعلق ختم ہو گا اور جب خدا سے تعلق ختم ہو تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک جگہ فرمایا کہ پھر شیطان سے تعلق قائم ہو جاتا ہے۔شیطان کی پکڑ میں انسان آجاتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 1 صفحہ 12) ہماری سچائی کے معیار کیا ہونے چاہئیں اور کس طرح ہم نے جھوٹ سے بچنا ہے ؟ اس بات کو بیان فرماتے ہوئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " مجھے اس وقت اس نصیحت کی حاجت نہیں کہ تم خون نہ کرو کیونکہ بجز نہایت شریر آدمی کے کون ناحق کے خون کی طرف قدم اٹھاتا ہے۔"کسی کا قتل کوئی نہیں کرتا۔فرماتے ہیں "مگر میں کہتا ہوں کہ ناانصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔حق کو قبول کر لو اگر چہ ایک بچہ سے۔اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔"اگر بچہ بھی کوئی سچی بات کر رہا ہے تو اس کو قبول کر لینا چاہئے۔ضد نہیں کرنی چاہئے۔فرمایا