خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 283
خطبات مسرور جلد 15 283 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 بد اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔پھر جھوٹ کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ایک سلسلہ چل پڑتا ہے جو نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہاں میاں بیوی کے تعلق میں اس حد تک سچائی کی بات کی ہے کہ کوئی ایچ پیچ نہ ہو۔سچائی کا اعلیٰ ترین معیار ہو۔اور اس سے جہاں تمہارے تعلقات خوشگوار رہیں گے وہاں تمہارے بچے بھی بہت سے مسائل سے بچیں گے۔اللہ تعالیٰ تمہارے گناہ بھی معاف کرے گا اور فوز عظیم اور بڑی کامیابیاں بھی عطا کرے گا۔پس یہ اسلام کا خوبصورت حکم ہے لیکن اس کے باوجو د جو قول سدید سے کام نہیں لیتے تو وہ اپنے رشتے کو بگاڑتے ہیں۔اپنے اعتماد کو جھوٹ کی وجہ سے قائم نہیں رکھتے۔اس سے زیادہ بد قسمت اور کون ہو سکتا ہے۔ہمارے ہاں بھی خلع اور طلاقوں کی شرح اس لئے بڑھ رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکموں سے دُوری ہے۔یہ دنیا دار جن کی کوئی رہنمائی نہیں ہے اس نے بھی میاں بیوی کا آپس میں ایک دوسرے کا جو جھوٹ بولنا ہے اس کو serious lie لکھا ہوا ہے۔یہ بڑا جھوٹ ہے۔بہت قابل فکر جھوٹ ہے۔لیکن وہ جن کی رہنمائی ہے اگر وہ ایسا کریں گے تو اس سے بھی زیادہ serious ہو جاتا ہے۔اس سے بھی زیادہ خوفناک صورت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکموں کی نافرمانی کر رہے ہیں۔پھر ایسا کرنے والا اپنے گناہوں کی بخشش سے بھی محروم رہے گا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو کامیابیوں کا وعدہ ہے اس سے بھی محروم رہے گا۔پس یہ ان لوگوں کے لئے قابل فکر ہے جو ایسے رویے رکھتے ہیں۔اس نے یہ بھی اس میں لکھا ہے کہ لوگ عام طور پر اپنی غلطیاں چھپانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔زیادہ percentage ان کی بن رہی ہے جو لوگوں سے بچنے کے لئے ، لوگوں کا سامنا کرنے سے بچنے کے لئے کہ ملنا نہیں چاہتے تو بیوی یا بچوں کو کہہ دیا کہ گھر پر نہیں ہے۔بعض لوگ اپنے بچوں کو کہہ دیتے ہیں کہ آنے والے کو یا فون کرنے والے کو کہہ دو کہ میرا باپ گھر پر نہیں ہے یا ماں گھر پر نہیں ہے۔اس طرح وہ بچوں کو بھی جھوٹ کی عادت ڈال رہے ہوتے ہیں۔تو یہ فطرت نہیں ہے بلکہ بڑوں کے بعض عمل ہیں جو بچوں کو بھی جھوٹ کی طرف لے جاتے ہیں۔پھر اس نے لکھا ہے کہ بغیر کسی محریک کے عادتا بھی لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور عادت بھی اصل میں ماحول کی وجہ سے ہی پڑ رہی ہوتی ہے۔پھر اس نے لکھا ہے کہ حقائق کو نظر انداز کرنے کے لئے بھی جھوٹ بولتے ہیں تاکہ صحیح باتیں نہ بتانی پڑیں۔حقائق چھپانے پڑیں اس کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔دوسروں کو نقصان پہنچانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔اچھا بننے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں لوگوں کو ہنسانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔لطیفہ سنایا جس پر بڑا مذاق ہو رہا ہے۔حالانکہ پاکیزہ صاف مذاق بھی ہو سکتا ہے۔پھر خود پسندی کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔ذاتی مفادات کے علاوہ مالی منفعت کے لئے جھوٹ بولا جاتا ہے۔مالی منفعت حاصل کرنے کے لئے جھوٹ بولا جاتا ہے۔اس سروے نے ہر قسم کے جھوٹ بولنے والوں کی