خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 282

خطبات مسرور جلد 15 282 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 پھر اسی مضمون میں بچوں سے لے کر سیاستدانوں اور مختلف پیشوں سے لے کر سائنسدانوں تک کی یہی باتیں ہیں کہ ان کی باتوں میں جھوٹ شامل ہوتا ہے اور اس معاشرے میں ، ماحول میں اتنا جھوٹ ہے کہ ہر جگہ جھوٹ ہی جھوٹ نظر آئے گا اور ان کے خیال میں اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔اس لئے مجبوری ہے کہ ہم جھوٹ بولیں۔ہم لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ ان لوگوں کا، مغربی قوموں کا سچائی کا معیار بہت اچھا ہے تو اس مضمون کو پڑھ شخص کر لگتا ہے کہ ان کی ہر بات کی بنیاد جھوٹ پر ہے۔انہوں نے پہلے جو ابتدائی سروے کیا اس سے پتا چلا کہ ہر روزانہ تین چار جھوٹ بولتا ہے اور یہ سب جھوٹ جو مثلاً مختلف قسم کے جھوٹ ہیں، یہ جھوٹ اس لئے ہیں کہ کسی کی صحیح رہنمائی نہ کرو۔کسی کی گائیڈنس کرنی ہے یا کسی کو رہنمائی دینی ہے تو صحیح نہ کرو۔اس میں بھی جھوٹ بولا۔کسی کو دھو کہ دینا ہے تو اس کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔پھر جو یہ ساری ریسرچ کی ہے اس میں جھوٹ بولنے کی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے جھوٹ بولا جاتا ہے۔پھر اور مختلف بہانے ہیں دھوکہ دینے کے لئے ، اپنی کمزوریاں چھپانے کے لئے ، اپنے بارے میں غلط تاثر قائم کروانے کے لئے، اپنی خود پسندی کے لئے جھوٹ بولا جاتا ہے۔یہ تو چھوٹے چھوٹے جھوٹ ہیں۔بڑے جھوٹوں میں اُس نے ذکر کیا کہ خاوند اور بیوی اپنے تعلقات میں جو ایک دوسرے کے غیروں سے ہوتے ہیں ان کو چھپانے کے لئے جھوٹ بولتے ہیں۔جب بیوی اور خاوند کی دوستیاں آزادی کی وجہ سے غلط رنگ میں ہو جاتی ہیں تو اس پہ جھوٹ بولنا پڑتا ہے۔ایک آزاد معاشرے کی یہ بھی بڑی برائی ہے کہ اس طرح آزادانہ میل ملاپ کی وجہ سے غلط تعلقات قائم ہو جاتے ہیں اور پھر جب جھوٹ کا پول کھلتا ہے تو پھر لڑائیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پھر ان کی علیحد گیاں اور طلاقوں تک نوبت آجاتی ہے۔ہمارے ہاں بھی اگر آپ جائزہ لیں تو گھروں کی لڑائیاں، طلاق اور خلع کی نوبت اس لئے آتی ہے کہ جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے جبکہ اسی بنیادی نفسیات کو سمجھتے ہوئے ہمیں نکاح کے خطبے میں جن آیات کی تلاوت کرنے کا کہا گیا ہے اس میں یہ آیت بھی شامل ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا (الاحزاب: 71)۔کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور صاف اور سیدھی بات کیا کرو۔اور پھر آگے فرمایا یضلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَن يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (الاحزاب:72)۔کہ اگر تم ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کر دے گا اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے وہ بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے۔اب ایک اطاعت تو یہی ہے کہ جب آزادیاں ہوتی ہیں تو آزادی کے نام پر پر دے ختم ہوتے ہیں اور جب پر دے ختم ہوتے ہیں تو پھر شکوک پیدا ہوتے ہیں اور اس طرح پھر