خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 2
خطبات مسرور جلد 15 2 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 آرام میسر آتا ہے۔غرض اس وقت " میں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلا تا ہوں۔آپ فرماتے ہیں کہ "میں اس امر کی طرف تم سب کو توجہ دلاتا ہوں کہ اسلام کی ترقی کے لئے اپنے مالوں کو خرچ کرو۔" ( ملفوظات جلد 8 صفحہ 393-394) پس آپ کے صحابہ نے اس بات کو سمجھا اور اپنے مال دینی مقاصد کے لئے پیش کئے جس کا ذکر بھی کئی مواقع پر آپ نے فرمایا کہ کس طرح آپ کے ماننے والے مالی قربانیوں میں بڑھنے والے ہیں۔مثلاً منارۃ المسیح کی تعمیر کے لئے جب تحریک ہوئی۔آپ بہت ساری تحریکات فرماتے تھے۔اشاعت لٹریچر کے لئے اور بعض دوسرے مقاصد کے لئے ، اسی طرح منارۃ المسیح کے لئے بھی جب آپ نے تحریک کی تو منشی عبد العزیز صاحب پٹواری نے جو قربانی کی اس کا ذکر کرتے ہوئے بلکہ دو افراد عبد العزیز صاحب اور شادی خان صاحب کا ذکر فرمایا۔آپ فرماتے ہیں کہ: "میری جماعت میں سے دو ایسے مخلص آدمیوں نے اس کام کے لئے چندہ دیا ہے جو باقی دوستوں کے لئے در حقیقت جائے رشک ہے۔ایک ان میں سے منشی عبد العزیز نام ہے۔ضلع گورداسپور میں پٹواری ہیں جنہوں نے باوجود اپنی کم سرمائیگی کے ایک سو روپیہ اس کام کے لئے چندہ دیا ہے۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ یہ سو روپیہ کئی سال کا ان کا اند وختہ ہو گا۔فرمایا کہ یہ اس لئے زیادہ قابل تعریف ہیں کہ ابھی وہ ایک اور کام میں بھی ایک سوچندہ دے چکے ہیں۔پھر فرمایا کہ دوسرے مخلص جنہوں نے اس وقت بڑی مردانگی دکھلائی ہے میاں شادی خان لکڑی فروش ساکن سیالکوٹ ہیں۔ابھی وہ ایک کام میں ڈیڑھ سو روپیہ چندہ دے چکے ہیں اور اب اس کام کے لئے دوسو روپیہ چندہ بھیج دیا ہے۔اور یہ وہ متوکل شخص ہے کہ اگر اس کے گھر کا تمام اسباب دیکھا جائے تو شاید تمام جائیداد پچاس روپے سے زیادہ نہ ہو۔فرمایا کہ انہوں نے لکھا ہے کہ کیونکہ ایام قحط ہیں اور دنیوی تجارت میں صاف تباہی نظر آتی ہے تو بہتر ہے ہم دینی تجارت کر لیں اس لئے جو کچھ اپنے پاس تھا سب بھیج دیا۔(ماخوذ از مجموعه اشتہارات جلد 3 صفحہ 314-315) اسی طرح اور بہت سے لوگوں کی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی کتب اور ملفوظات میں بیان فرمائی ہیں جنہوں نے اپنی ضروریات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے دینی اغراض کے لئے بڑھ چڑھ کر قربانیاں کیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے افراد کو قربانیوں کی یہ جاگ ایسی لگی ہے کہ ایک کے بعد دوسری نسل قربانیاں کرتی چلی جارہی ہے بلکہ وہ لوگ جو دور دراز ممالک کے رہنے والے ہیں، بعد میں آکر شامل ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں وہ بھی ان بزرگوں کی قربانیوں کی جب باتیں سنتے ہیں یا پھر یہ سنتے ہیں کہ فلاں مقصد کے لئے قربانی کی ضرورت ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر پھر قربانیوں کی روح کو سمجھتے ہیں تو وہ بھی ایسی ایسی مثالیں پیش کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔امراء سے زیادہ اوسط درجے کے لوگ اور غرباء ہیں جو قربانیاں پیش کرتے ہیں اور حیرت انگیز نمونے دکھاتے ہیں۔انہیں یہ خیال نہیں ہوتا کہ ہماری معمولی سی قربانی سے کیا فرق