خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 279
خطبات مسرور جلد 15 279 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 لئے ، کس قسم کے بتوں کی پلیدی سے احتراز کرنا ہے اور بچنا ہے اور کیا طریق اختیار کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو اپنی مختلف کتب میں بھی بیان فرمایا ہے۔مجالس میں بھی بار بار ذکر فرمایا ہے اور بڑے واضح طور پر سچائی کی اہمیت بیان فرمائی ہے اور اس بارے میں بڑے درد کا اظہار کیا ہے جو ہر احمدی کو ہر وقت اپنے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے ایمانوں کو مضبوط کرتے ہوئے تقویٰ کی طرف بڑھنے والے ہوں۔آپ کے مختلف اقتباسات اس بارے میں پیش کروں گا۔بظاہر یہ ایسی باتیں لگتی ہیں جو ایک جیسی ہیں لیکن ہر فقرے میں ایک علیحدہ سبق اور نصیحت ہے۔آپ اپنی کتاب نور القرآن میں فرماتے ہیں کہ : " قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بُت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج: 31)۔یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔" دونوں پلید ہیں۔دونوں گندے ہیں ان سے پر ہیز کرو۔(نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 403) پھر جھوٹ کی وجہ سے انسان کے خدا تعالیٰ سے دُور ہو جانے کا ذکر فرمایا یا۔یہ کہنا چاہئے کہ جھوٹے کو اللہ تعالیٰ چھوڑ دیتا ہے۔اس بارے میں فرماتے ہیں کہ : "بتوں کی پرستش اور جھوٹ بولنے سے پر ہیز کرو۔یعنی جھوٹ بھی ایک بت ہے جس پر بھروسہ کرنے والا خدا کا بھروسہ چھوڑ دیتا ہے۔سو جھوٹ بولنے سے خدا بھی ہاتھ سے جاتا ہے۔" (اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 361) جب خدا تعالیٰ پر بھروسہ چھوڑ دیا تو پھر اللہ تعالیٰ اس بندے کے قریب نہیں آتا پھر۔یہ آپ نے اسلامی اصول کی فلاسفی " میں فرمایا۔پھر لیکچ لاہور میں آپ نے یہ فرمایا کہ "بہنوں سے اور جھوٹ سے پر ہیز کرو کہ یہ دونوں ناپاک ہیں۔" (لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 157) پس پاک ہونے کے لئے ضروری ہے کہ جھوٹ اور ہر قسم کے شرک سے انسان بچے۔پھر آپ نے ایک مجلس میں فرمایا کہ : " قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ النُّورِ (الحج: 31)۔دیکھو یہاں جھوٹ کو بُت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بت ہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔جیسے بُت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بھی بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہو تا۔" اپنی باتوں کو صرف ایک