خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 280
خطبات مسرور جلد 15 280 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 ظاہری پالش کیا ہوتا ہے ویسے اس کے نیچے کچھ بھی نہیں ہوتا۔فرمایا کہ " جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جائے تو جلدی سے دور نہیں ہو تا۔" جب ان کو عادت پڑ جاتی ہے تو پھر جلدی سے دور نہیں ہو تا۔فرمایا کہ " مدت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت ان کو ہو گی۔" (ملفوظات جلد 3 صفحہ 350) بعض عادی ہو جاتے ہیں کہ ہر بات میں انہوں نے غلط بیانی کرنی ہوتی ہے۔آپ نے فرمایا کہ اس کے لئے پھر بڑی محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔اور بڑا لمبا عرصہ ایک مجاہدہ کرنا پڑتا ہے پھر جا کر سچ بولنے کی عادت پڑتی ہے۔پھر وہ لوگ جو یہ خیال کرتے ہیں کہ دنیاوی کامیابیاں اگر حاصل کرنی ہیں تو کچھ نہ کچھ غلط بیانی اور جھوٹ بولنے کی ضرورت ہو گی اس کے بغیر گزارہ نہیں۔ان کے ان خیالات کی نفی فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے۔جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لئے جھوٹ کو بُت بناتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی۔جیسے ایک بُت پرست بت سے نجات چاہتا ہے۔" فرمایا کہ " جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بُت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔" فرماتے ہیں " کیسی خرابی آکر پڑی ہے۔اگر کہا جاوے کہ کیوں بت پرست ہوتے ہو۔اس نجاست کو چھوڑ دو۔تو کہتے ہیں کہ کیونکر چھوڑ دیں اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہو گی کہ جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں۔" فرمایا اگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخر سچ ہی کامیاب ہوتا ہے۔بھلائی اور فتح اسی کی ہے۔" آپ فرماتے ہیں "یقیناً یاد رکھو جھوٹ جیسی کوئی منحوس چیز نہیں۔عام طور پر دنیا دار کہتے ہیں کہ سچ بولنے والے گرفتار ہو جاتے ہیں مگر میں کیونکر اس کو باور کروں ؟ مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں۔" آپ فرماتے ہیں " مجھ پر سات مقدمے ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے کسی ایک میں ایک لفظ بھی مجھے جھوٹ لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی۔کوئی بتائے کہ کسی ایک میں بھی خدا تعالیٰ نے مجھے شکست دی ہو۔اللہ تعالی تو آپ سچائی کا حامی اور مددگار ہے۔یہ ہو سکتا ہے کہ وہ راستباز کو سزادے؟ کبھی ہو سکتا ہے کہ سچ بولنے والے کو سزا دے؟ فرماتے ہیں " اگر ایسا ہو تو دنیا میں پھر کوئی شخص سچ بولنے کی جرات نہ کرے اور خدا تعالیٰ پر سے ہی اعتقاد اٹھ جاوے۔راستباز تو زندہ ہی مر جاویں۔" فرماتے ہیں " اصل بات یہ ہے کہ سچ بولنے سے جو سزا پاتے ہیں وہ سچ کی وجہ سے نہیں ہوتی۔وہ سزا ان کی بعض اور مخفی در مخفی بدکاریوں کی ہوتی ہے۔"اگر کسی جرم میں پھنس گئے اور سچ بولا اور سزا مل گئی۔اس وقت نیکی کا ایک عارضی دور آیا اور سچ بول دیا اور سزا مل گئی تو انسان یہ نہ سمجھے کہ یہ سزا مجھے اس وجہ سے ملی ہے۔فرمایا یہ جو