خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 278 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 278

خطبات مسرور جلد 15 278 24 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جون 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 16 جون 2017ء بمطابق 16 احسان 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، لندن، یوکے تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے اخلاق کا تقویٰ سے تعلق بتایا تھا کہ تقویٰ کے لئے اخلاق ضروری ہیں اور اس خُلق بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد بھی کہ متقی انسان اس وقت بنتا ہے جب اس میں تمام خ موجود ہوں۔پس مومن کو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ تمام اخلاق کو اپنائے اور وہ تمام اوامر جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے انہیں بجالائے اور تمام نواہی جن سے بچنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے ان سے بچے تب ہی وہ اعلیٰ خُلق اس میں پیدا ہو سکتے ہیں جو ایک متقی کے لئے ضروری ہیں۔لیکن بعض خلق کی باتیں ایسی ہیں جو اگر ایک مومن میں نہیں تو پھر اس کے ایمان کا معیار بھی محل نظر ہو جاتا ہے۔وہ بھی دیکھنے والا ہے کہ ہے بھی کہ نہیں۔تقویٰ تو بعد کی بات ہے پہلے ایمان کو سنبھالنے کی ضرورت ہے۔ان میں سے سب سے اہم بات یا خُلق جو ایک مومن کی بنیادی شرط ہے وہ سچائی پر قائم ہونا ہے اور جھوٹ سے بچنا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ (الحج: 31)۔پس تم بتوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔پس بتوں کی پرستش اور جھوٹ کو ملا کر واضح کر دیا کہ اگر تمہارے اندر سچائی نہیں اور سچی بات کہنے کی عادت نہیں تو یہ ایسا ہی بڑا گناہ ہے جیسے بتوں کو پوجنا۔یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک مومن کو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر بھی ایمان ہو اور پھر ظاہری یا مخفی بتوں کی پلیدی میں بھی وہ ملوث ہو۔پس ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والے کو یہ بہت بڑی اور کھلی اور واضح وار تنگ ہے کہ اگر مومن ہو تو سچائی کے اعلیٰ معیار بھی اپنانے ہوں گے ورنہ اپنے ایمان کی فکر کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس بارے میں بڑی کھول کر توجہ دلائی ہے، بڑے واضح طور پر بیان فرمایا ہے کہ بُت کیا ہے ؟ اور تم نے اپنے ایمان کو سلامت رکھنے کے لئے ، اپنے ایمان میں ترقی کرنے کے