خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 276
خطبات مسرور جلد 15 276 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جون 2017 یہاں ان کی ہمشیرہ امتہ الحئی صاحبہ ڈاکٹر حامد اللہ خان صاحب کی اہلیہ ہیں۔یہ بھی جماعت کی خدمت کرنے والے ہیں۔ان کی خواہش تو ہمیشہ سے تھی کہ وقف کریں۔لیکن جب میری خلافت کی ابتدا میں میرے پاس آئے کہ میں نے پہلے بھی وقف کا لکھا تھا کہ وقف کرنا چاہتا ہوں تو ان کی بعض صلاحیتوں کا مجھے علم تھا اس لئے میں نے ان کا وقف منظور کیا اور ان کو ربوہ میں نائب صدر عمومی کے طور پر لگایا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے بڑے احسن رنگ میں یہ کام وہاں سر انجام دیا۔ان کی اہلیہ کہتی ہیں کہ انہوں نے مجھے بتایا کہ میر اوقف کا خط جو میں نے لکھا تھا قبول ہو گیا ہے اور پھر میں نے ان کو جو ہدایتیں دی تھیں وہ بیان کیں کہ کس طرح وہاں جا کے کام کرنا ہے اور دُور کے محلوں میں خاص طور پر ربوہ کے جو دُور کے محلے ہیں ان کو ، بعضوں کو محرومی کا احساس ہو تا ہے اس لئے وہاں ضروری دورہ کیا کرنا ہے۔چنانچہ انہوں نے آخری زندگی تک اس کام کو نبھایا اور بڑی اچھی طرح نبھایا۔اور وہاں کے غریب لوگ بھی ان سے بڑے خوش تھے۔ان کی طبیعت میں بڑی عاجزی تھی اور معاملہ فہمی بھی بڑی تھی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے احسن طریق میں معاملات نپٹا دیا کرتے تھے۔صدر عمومی نے بھی لکھا ہے کہ بعض معاملات جو بڑے مشکل ہوتے تھے ہم ان کو دیتے تھے اور یہ بڑے احسن رنگ میں ان کو سر انجام دیا کرتے تھے اور فریقین ان کی بات سن کے راضی بھی ہو جاتے تھے بلکہ بعض کہتے تھے کہ ہم نے فیصلہ کروانا ہے تو انہی سے کروانا ہے کیونکہ وہ ہر ایک کی بات سن کے بڑے انصاف سے فیصلہ کرتے ہیں۔ان کی طبیعت میں بہت نرمی اور پیار تھا۔بچوں سے، اپنے بچوں سے بھی اور غیر وں کے بچوں سے بھی بہت پیار کیا کرتے تھے۔خلافت سے ان کا تعلق تو تھا ہی بہت زیادہ اور کہنا چاہئے ایک مثالی تعلق تھا۔یہی ان کے بچوں نے بھی لکھا۔ان کی بیوی نے بھی لکھا اور دوسرے لکھنے والوں نے بھی لکھا۔کیونکہ آخری بیماری کے دنوں میں ان کو کینسر کی بیماری تھی تو کمزوری ہو جاتی تھی جب ذرا بہتر ہوتے تھے تو فوراً اس لئے دفتر چلے جاتے تھے کہ پچھلے دنوں جب یہاں آئے ہیں تو میں نے کہا تھا کہ دفتر جاتے رہنا۔تو کیونکہ یہ حکم ہے خلیفہ وقت کا کہ دفتر جاتے رہنا اس لئے انہوں نے اپنی بیماری کی پرواہ نہیں کی اور باقاعدگی سے دفتر جاتے رہے اور اس عرصہ میں بھی باوجود بیماری کے بڑی محنت سے اپنے کام کو سر انجام دیا۔ان کی بیٹی کہتی ہیں کہ جب یہاں آئے ہیں اور ڈاکٹر نے دیکھا تو اس نے کہا کہ آپ کی بیماری بڑی خطرناک ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ شفاد ینے والا ہے۔جتنا چاہے گاوہ زندگی دے گا اور مجھے کوئی اس پہ فکر نہیں ہے۔تو یہاں انگریز ڈاکٹر تھاوہ بھی حیران رہ گیا کہ ایسے مریض بعض دفعہ گھبر اجاتے ہیں لیکن یہ تو بڑے حوصلے سے بات کر رہے ہیں۔اسی طرح ڈاکٹر نوری صاحب بھی