خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 275 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 275

خطبات مسرور جلد 15 275 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09جون2017 کہ ہمیں سال سے زائد عرصہ ہم نے اکٹھے گزارا اور بڑا قریب سے ان کو دیکھنے کا موقع ملا۔بڑا منفرد مقام رکھنے والے انسان تھے۔عاجز، منکسر المزاج۔کہتے ہیں خاکساری کی حالت ایسی تھی کہ میرے پاس بیان کرنے کے لئے الفاظ نہیں ہیں۔بڑے بے نفس انسان تھے اور یہ صرف مبالغہ نہیں۔واقعی ان کی یہ حالت تھی۔اللہ تعالیٰ نے انہیں تقریر اور تحریر کا بھی بڑا ملکہ دیا تھا۔یہ احمد یہ سکول میں پہلے ٹیچر تھے پھر پر نسپل بن گئے اور بڑے عمدہ رنگ میں تمام انتظامی کام انہوں نے سر انجام دیئے۔بڑے خشوع سے نمازیں ادا کرنے والے۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والے۔چندوں میں نہایت با قاعدہ، صدقہ و خیرات کرنے والے۔مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے وجو د تھے اور خلافت سے بھی ان کا بڑا عقیدت کا اور محبت کا تعلق تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع کا جو 1988ء کا سیر الیون کا دورہ تھا اس میں بھی ان کو قابل قدر خدمات کی توفیق ملی اور حضور کا ادب اور احترام کہتے ہیں ایسا قابل دید تھا کہ دوسروں کے لئے بھی نمونہ تھا۔یہاں بھی آئے ہیں۔میرے ساتھ حالانکہ پرانا تعلق تھا لیکن خلافت کے بعد ان کا ایک انداز بالکل بدلا ہوا تھا۔فضل احمد شاہد صاحب مربی سلسلہ بھی کہتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک عیسائی مناد نے بو (Bo) میں آکر بڑا مجمع اکٹھا کر کے لوگوں کے سامنے فرضی معجزات پیش کئے۔آپ نے اس کا تحریری جواب پیش کیا جس پر عیسائی بو کھلا گئے اور اس بات پر غیر احمدی مساجد کے علماء نے بھی بہت خوشی اور مسرت کا اظہار کیا۔اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔دوسرا جنازہ عزیزم مرزا عمر احمد صاحب کا ہے جو صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب مرحوم کے بیٹے تھے۔5 جون دو پہر دو بجے طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ربوہ میں 67 سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔یہ میرے بچپن کے ساتھی ہم عمر بھی تھے۔بچپن میں اکٹھے ہم کھیلتے بھی تھے۔بڑی خوبیوں کے مالک تھے اور ایک عزیز ہونے ، رشتہ دار ہونے، ہم عمر ہونے کے باوجود اور باوجود اس کے کہ بچپن سے اکٹھے پلے بڑھے خلافت کے بعد تو خاص طور پر میں نے دیکھا ہے کہ ان کی احترام کی جو حالت تھی اور جو عقیدت تھی وہ بالکل ایک مثالی بن چکی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کی شادی امتہ الکافی صاحبہ کے ساتھ ہوئی جو میجر سید سعید احمد صاحب کی بیٹی تھی۔یہ حضرت میر محمد اسحق صاحب کی نواسی ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ان کا نکاح پڑھایا تھا۔ان کے پانچ بچے ہیں۔تین بیٹیاں اور دو بیٹے۔اور ایک بیٹی جو سب سے چھوٹی ہے واقعہ کو بھی ہے۔ریویو آف ریلیجنز میں بڑا اچھا کام کر رہی ہے۔ایک بیٹی ڈاکٹر فریحہ ، یہاں لندن میں ہے یہ ڈاکٹر حماد صاحب کی اہلیہ ہیں اور لجنہ میں مختلف حیثیتوں سے انہوں نے کافی کام کیا ہے۔