خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 274
خطبات مسرور جلد 15 274 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09جون2017 اور ہر وقت اعلیٰ اخلاق کے اظہار کی توفیق عطا فرمائے۔اور ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش کے مطابق ہی اپنی زندگیاں گزارنے والے ہوں۔نماز کے بعد میں دو جنازے غائب بھی پڑھاؤں گا۔ایک مکرم لطف الرحمن محمود صاحب امریکہ کا ہے جو مکرم میاں عطاء الرحمن صاحب کے بیٹے تھے۔27 مئی 2017ء کو ان کی وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ان کا تعلق بھیرہ سے تھا اور ان کے دادا حضرت میاں کریم دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے جنہوں نے 1894ء میں بیعت کی تھی۔اُن کی اہلیہ ، ان کی دادی طالع بی بی نے بیعت تو شاید اپنے خاوند کے ساتھ کرلی تھی لیکن پورا یقین شاید نہیں تھا۔طالع بی بی ان کا نام تھا۔انہوں نے ایک خواب دیکھی تھی اور ان کی خواب سن کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ جس عورت کو یہ خواب آئی ہے مگر اس عورت کو مجھ پر کامل یقین نہیں ہے کوئی خواب آئی تھی۔اس سے یہ اظہار ہو تا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد پر ، بعثت پر کامل یقین نہیں فرمایا کہ اگر وہ مجھ پر کامل یقین کرے تو خدا لڑ کا عطا کرے گا۔چنانچہ پھر یہ قادیان دستی بیعت کے لئے گئے اور پھر خدا تعالیٰ نے ان کو لڑ کا عطا کیا جس کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عطاء الرحمن رکھا۔یہ لطف الرحمن صاحب کے والد تھے۔یہ بڑا لمبا عرصہ تعلیم الاسلام سکول میں بھی پڑھاتے رہے۔سائنس پڑھاتے تھے۔میں بھی سکول میں ان کے شاگردوں میں شامل تھا۔آپ میاں عطاء الرحمن صاحب کے بڑے بیٹے تھے۔مرکزی طور پر خدام الاحمدیہ پاکستان کے مہتمین کی خدمت کی توفیق پائی۔المنار اور خالد کے ایڈیٹر بھی رہے۔پھر سیر الیون چلے گئے اور کافی لمبا عرصہ وہاں سیرالیون میں جماعت کے سکول میں رہے۔پھر ریٹائر ہو کے آپ امریکہ چلے گئے تھے۔تقریر اور تحریر کا انہیں بہت ملکہ حاصل تھا۔ان کے مضامین اکثر الفضل میں شائع ہوتے تھے۔محمود مجیب اصغر صاحب کہتے ہیں کہ ایک دفعہ پاکستان آئے تو خلافت لائبریری میں حوالے تلاش کر رہے تھے۔پوچھا تو لطف الرحمان صاحب نے یہ بتایا کہ امریکہ میں اخبارات میں اسلام اور قرآن پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ان کا مستند حوالوں سے جواب تیار کر کے انہیں بھجواتا ہوں تو عموماً اخبار والے میر ا مضمون شائع کر دیتے ہیں۔اور اسی حوالے سے میں اس وقت خلافت لائبریری میں حوالے تلاش کر رہا ہوں۔عطاء المجیب راشد صاحب نے بھی لکھا ہے کہ بہت وسیع مطالعہ تھا۔مذہبی مسائل پر گہری نظر رکھنے والے تھے۔اردو اور انگریزی پر یکساں عبور تھا۔اردو میں بہت تحقیقی اور معلوماتی مضامین خاص عالمانہ انداز میں لکھتے تھے۔علمی نکات تلاش کرنے کا بہت شوق تھا اور سلسلہ کا لٹریچر ہمیشہ زیر مطالعہ رہتا تھا۔بہت علم دوست تھے۔برجستہ گوئی میں کمال رکھتے تھے۔خلیل مبشر صاحب جو سیر الیون مشن میں امیر اور مبلغ انچارج رہے ہیں وہ کہتے ہیں