خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 273
خطبات مسرور جلد 15 273 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09جون2017 لئے باعث ندامت نہیں ہے کہ انسان عمدہ سمجھ کر اس سلسلہ میں آیا تھا جیسا کہ ایک رشید فرزند اپنے باپ کی نیک نامی ظاہر کرتا ہے کیونکہ بیعت کرنے والا فرزند کے حکم میں ہوتا ہے۔اور اسی لئے آنحضرت صلعم کی ازواج مطہرات کو امہات المؤمنین کہا ہے۔گویا کہ حضور عامۃ المومنین کے باپ ہیں۔جسمانی باپ زمین پر لانے کا موجب ہو تا ہے اور حیات ظاہری کا باعث۔مگر روحانی باپ آسمان پر لے جاتا اور اس مرکز اصلی کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔" فرماتے ہیں " کیا آپ پسند کرتے ہیں کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بد نام کرے؟" جو الزام لگا رہے ہیں کہ یہ ہے، یہ ہے۔آپ لوگوں میں برائی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم جماعت کو بدنام کر رہے ہو اور کیا کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کو بد نام کرے " طوائف کے ہاں جاوے؟ اور قمار بازی کرتا پھرے۔شراب پیوے یا ایسے افعال قبیحہ کا مر تکب ہو جو باپ کی بدنامی کا موجب ہوں۔" فرماتے ہیں " میں جانتا ہوں کوئی آدمی ایسا نہیں ہو سکتا جو اس فعل کو پسند کرے۔لیکن جب وہ ناخلف بیٹا ایسا کرتا ہے تو پھر زبان خلق بند نہیں ہو سکتی۔" اگر کوئی کرے تو پھر دنیا انگلیاں اٹھاتی ہے "لوگ اس کے باپ کی طرف نسبت کر کے کہیں گے کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا فلاں بد کام کرتا ہے۔پس وہ ناخلف بیٹا خود ہی باپ کی بدنامی کا موجب ہوتا ہے۔اسی طرح پر جب کوئی شخص ایک سلسلہ میں شامل ہوتا ہے " جماعت میں جب شامل ہوئے " اور اس سلسلہ کی عظمت اور عزت کا خیال نہیں رکھتا اور اس کے خلاف کرتا ہے تو وہ عند اللہ ماخوذ ہوتا ہے۔" اللہ کے نزد یک پھر وہ پکڑا جائے گا۔قابل مواخذہ ہو گا " کیونکہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا بلکہ دوسروں کے لئے ایک برانمونہ ہو کر ان کو سعادت اور ہدایت کی راہ سے محروم رکھتا ہے۔" فرماتے ہیں " پس جہاں تک آپ لوگوں کی طاقت ہے خدا تعالیٰ سے مدد مانگو اور اپنی پوری طاقت اور ہمت سے اپنی کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کرو۔جہاں عاجز آجاؤ وہاں صدق اور یقین سے ہاتھ اٹھاؤ کیونکہ خشوع اور خضوع سے اٹھائے ہوئے ہاتھ جو صدق اور یقین کی تحریک سے اٹھتے ہیں خالی واپس نہیں ہوتے۔ہم تجربہ سے کہتے ہیں کہ ہماری ہزارہاد عائیں قبول ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں۔" فرماتے ہیں۔یہ ایک یقینی بات ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے اندر اپنے ابنائے جنس کے لئے ہمدردی کا جوش نہیں پاتا وہ بخیل ہے۔اگر میں ایک راہ دیکھوں جس میں بھلائی اور خیر ہے تو میر افرض ہے کہ میں پکار پکار کر لو گوں کو بتلاؤں۔اس امر کی پرواہ نہیں ہونی چاہئے کہ کوئی اس پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 146-147) پس ہمارے ہر عمل سے یہ ثابت ہونا چاہئے کہ ہم نے آپ کی بیعت میں آکر اپنے اندر اخلاقی تبدیلیاں پیدا کیں، پاک تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔اور پھر لوگوں کو یہ بتائیں بھی اور یہی تبلیغ کا ذریعہ ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تقویٰ پر چلتے ہوئے اپنے اخلاق میں پاک تبدیلیاں پیدا کرنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو سامنے رکھنے