خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 272
خطبات مسرور جلد 15 272 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09 جون 2017 عام لوگ رزق سے مراد اشیاء خوردنی لیتے ہیں۔یہ غلط ہے " کھانے پینے کی چیزیں صرف رزق نہیں ہیں۔پیسہ مال رزق نہیں ہے فرمایا کہ "جو کچھ قوی کو دیا جاوے وہ بھی رزق ہے۔علوم و فنون وغیرہ معارف حقائق عطا ہوتے ہیں۔جسمانی طور پر معاش مال میں فراخی ہو۔سب رزق ہے۔ساری چیزیں رزق میں شامل ہیں۔بندے کی صلاحیتیں، اس کے اخلاق، اس کا مال ہر چیز۔فرمایا کہ " رزق میں حکومت بھی شامل ہے اور اخلاق فاضلہ بھی رزق ہی میں داخل ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔یعنی روٹی میں سے روٹی دیتے ہیں۔علم میں سے علم اور اخلاق میں سے اخلاق۔علم کا دینا تو ظاہر ہی ہے۔یہ یادر کھو کہ وہی بخیل نہیں ہے جو اپنے مال میں سے کسی مستحق کو کچھ نہیں دیتا بلکہ وہ بھی بخیل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہو اور وہ دوسروں کو سکھانے میں مضائقہ کرے۔" کنجوسوں کی کئی قسمیں ہیں۔ہر ایک جو کسی بھی طرح اپنے پاس اس میں جو صلاحیتیں ہیں یا مال ہے اس کو چھپاتا ہے وہ کنجوس ہے، بخیل ہے فرمایا " محض اس خیال سے اپنے علوم وفنون سے کسی کو واقف نہ کرنا کہ اگر وہ سیکھ جاوے گا تو ہماری بے قدری ہو جاوے گی یا آمدنی میں فرق آجائے گا شرک ہے۔کیونکہ اس صورت میں وہ اس علم یا فن کو ہی اپنارازق اور خدا سمجھتا ہے۔اسی طرح پر جو اپنے اخلاق سے کام نہیں لیتا وہ بھی بخیل ہے۔اخلاق کا دینا یہی ہوتا ہے کہ جو اخلاق فاضلہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دے رکھے ہیں اس کی مخلوق سے ان اخلاق سے پیش آوے۔" جو اخلاق اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیئے ہیں پہلے تو وہ اخلاق حاصل کرے پھر ان اخلاق کا اظہار لو گوں کے سامنے کرے۔یہ اللہ تعالیٰ کے رزق کا جو اس نے اس کو دیا، دینے کا اظہار ہے فرمایا " وہ لوگ اس کے نمونہ کو دیکھ کر خود بھی اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔جب انسان اپنے اخلاق دکھانے کے نمونے قائم کرے گا تو لوگ بھی پھر با اخلاق ہونے کی کوشش کریں گے۔فرماتے ہیں کہ " اخلاق سے اس قدر ہی مراد نہیں ہے کہ زبان کی نرمی اور الفاظ کی نرمی سے کام لے۔نہیں۔بلکہ شجاعت، مروت، عفت جس قدر قوتیں انسان کو دی گئی ہیں دراصل سب اخلاقی قوتیں ہیں۔ان کا بر محل استعمال کرنا ہی ان کو اخلاقی حالت میں لے آتا ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 435-436) اپنی جماعت کے افراد کو اعلیٰ اخلاق پر فائز ہونے اور اپنے اندر تبدیلی پیدا کرنے کی نصیحت کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : "جو شخص اپنے ہمسایہ کو اپنے اخلاق میں تبدیلی دکھاتا ہے کہ پہلے کیا تھا اور اب کیا ہے وہ گویا ایک کرامت دکھاتا ہے۔اس کا اثر ہمسایہ پر بہت اعلیٰ درجہ کا پڑتا ہے۔" فرماتے ہیں کہ "ہماری جماعت پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہم نہیں جانتے کہ کیا ترقی ہو گئی ہے اور تہمت لگاتے ہیں کہ افتراء، غیظ و غضب میں مبتلا ہیں۔کیا یہ ان کے