خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 271
خطبات مسرور جلد 15 271 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 جون 2017 شخص با اخلاق آدمی ہے تو اس کی طرف جس قدر رجوع ہوتا ہے وہ کوئی مخفی امر نہیں۔" فرمایا " اخلاق حمیدہ کی زدان لوگوں پر بھی پڑتی ہے جو کئی قسم کے نشانات کو دیکھ کر بھی اطمینان اور تسلی نہیں پاسکتے۔" فرماتے ہیں کہ "بات یہ ہے کہ بعض آدمی ظاہری معجزات اور خوارق کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں اور بعض حقائق اور معارف کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں۔"مگر اکثر لوگ وہ ہوتے ہیں جن کی ہدایت اور تسلی کا موجب اخلاق فاضلہ اور التفات ہوتے ہیں۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 81-82) آجکل بھی بیشمار لوگ جو احمدیت میں داخل ہوتے ہیں کسی نہ کسی احمدی کے اخلاق سے متاثر ہو کر یا مجموعی طور پر جماعت کے اخلاق سے متاثر ہو کر احمدی ہو رہے ہوتے ہیں۔پس ہر احمدی کو اس بات پر نظر رکھنی چاہئے کہ اخلاق صرف اسے تقویٰ میں بڑھانے کے لئے نہیں ہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہیں اور دوسروں کی اصلاح کا ذریعہ بھی ہیں۔اس لئے ہر احمدی کو اپنے اخلاق پہ نظر رکھنی چاہئے۔ایمان کا طریق کیا ہے ؟ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : " اللہ تعالیٰ سے اصلاح چاہنا اور اپنی قوت خرچ کرنا یہی ایمان کا طریق ہے۔" جتنی طاقت ہے اپنا زور لگانا۔اس کو خرچ کرنا اور اصلاح کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔ایمان حاصل کرنے کا یہ طریق ہے۔فرماتے ہیں کہ "حدیث شریف میں آیا ہے کہ جو یقین سے اپنا ہاتھ دعاء کے لئے اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی دعارہ نہیں کرتا ہے۔پس خدا سے مانگو اور یقین اور صدق نیت سے مانگو۔" فرماتے ہیں کہ "میری نصیحت پھر یہی ہے کہ اچھے اخلاق ظاہر کرنا ہی اپنی کرامت ظاہر کرنا ہے۔اگر کوئی کہے کہ میں کراماتی بنا نہیں چاہتا تو یہ یاد رکھے کہ شیطان اسے دھو کہ میں ڈالتا ہے۔کرامت سے عجب اور پندار مراد نہیں ہے۔کرامت سے لوگوں کو اسلام کی سچائی اور حقیقت معلوم ہوتی ہے اور ہدایت ہوتی ہے۔میں تمہیں پھر کہتا ہوں کہ عجب اور پندار تو کرامت اخلاقی میں داخل ہی نہیں۔پس یہ شیطانی وسوسہ ہے۔دیکھو یہ کروڑ ہا مسلمان جو رُوئے زمین کے مختلف حصص میں نظر آتے ہیں کیا یہ تلوار کے زور سے، جبر و اکراہ سے ہوئے ہیں ؟ نہیں! یہ بالکل غلط ہے۔یہ اسلام کی کراماتی تاثیر ہے جو اُن کو کھینچ لائی ہے۔" فرماتے ہیں " کرامتیں انواع و اقسام کی ہوتی ہیں۔منجملہ ان کے ایک اخلاقی کرامت بھی ہے جو ہر میدان میں کامیاب ہے۔انہوں نے جو مسلمان ہوئے صرف راستبازوں کی کرامت ہی دیکھی اور اس کا اثر پڑا۔انہوں نے اسلام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھا۔نہ تلوار کو دیکھا۔" فرماتے ہیں کہ " بڑے بڑے محقق انگریزوں کو یہ بات ماننی پڑی ہے کہ اسلام کی سچائی کی روح ہی ایسی قوی ہے جو غیر قوموں کو اسلام میں آنے پر مجبور کر دیتی ہے۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 145-146) پھر اس بات کو بیان فرماتے ہوئے کہ اخلاق بھی رزق کی طرح ہیں اور ان کا اظہار اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے رزق کے خرچ کرنے کی طرح ہے اور یہ بھی تقویٰ کا ایک عملی جزو اور حصہ ہی ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ :