خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 1 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 1

خطبات مسرور جلد 15 1 1 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017 خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 06 جنوری 2017ء بمطابق 06 صلح 1396 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دنیا میں انسان ذاتی تسکین کے لئے بھی، ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے بھی مال خرچ کرتا ہے اور کبھی صدقہ و خیرات بھی کر دیتا ہے۔لیکن آج دنیا میں کوئی ایسا گروہ نہیں ہے، کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس کے ممبران اور افراد دنیا کے ہر شہر اور ہر ملک میں ایک مقصد کے لئے ایک ہاتھ پر جمع ہو کر اپنے مال خرچ کرنے کے لئے پیش کر رہے ہوں اور وہ مقصد بھی دین کی اشاعت اور خدمت خلق کا مقصد ہو۔ہاں صرف ایک جماعت ہے جو یہ کام کر رہی ہے اور وہ وہ جماعت ہے جس کو خدا تعالیٰ نے اس مقصد کے لئے قائم فرمایا ہے۔وہ جماعت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی جماعت ہے۔وہ جماعت ہے جو مسیح موعود اور مہدی معہود کی جماعت ہے جس کے سپر د اسلام کے ساری دنیا میں قیام کا کام ہے جو گزشتہ تقریباً 128 سال سے خدمتِ اسلام اور خدمت انسانیت کے لئے اپنا مال قربان کر رہی ہے۔اور یہ اس لئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس جماعت کو قرآنی تعلیم کی روشنی میں مال کے صحیح مصرف اور مال کی قربانی کا ادراک عطا فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ "میں بار بار تاکید کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو۔یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے۔" یہ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہے۔"کیونکہ اسلام اس وقت تنزل کی حالت میں ہے۔بیرونی اور اندرونی کمزوریوں کو دیکھ کر طبیعت بے قرار ہو جاتی ہے اور اسلام دوسرے مخالف مذاہب کا شکار بن رہا ہے۔" فرمایا " جب یہ حالت ہو گئی ہے تو کیا اسلام کی ترقی کے لئے ہم قدم نہ اٹھائیں؟ خدا تعالیٰ نے اسی غرض کے لئے تو سلسلہ کو قائم کیا ہے۔پس اس کی ترقی کے لئے سعی کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم اور منشاء کی تعمیل ہے۔" پھر فرمایا " یہ وعدے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کے لئے دے گا میں اس کو چند گنا برکت دوں گا۔دنیا میں ہی اسے بہت کچھ ملے گا اور مرنے کے بعد آخرت کی جزا بھی دیکھ لے گا کہ کس قدر