خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 796

خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 270

خطبات مسرور جلد 15 270 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09جون2017 جب انکساری اور فروتنی اختیار کرتا ہے تو یہ فروتنی ہی کرامت ہے۔پس تم میں سے کون ہے جو نہیں چاہتا کہ کراماتی بن جاوے۔میں جانتا ہوں ہر ایک یہی چاہتا ہے۔تو بس یہ ایک مدامی اور زندہ کر امت ہے۔انسان اخلاقی حالت کو درست کرے کیونکہ یہ ایسی کرامت ہے جس کا اثر کبھی زائل نہیں ہوتا بلکہ نفع دُور تک پہنچتا ہے۔" فرمایا کہ "مومن کو چاہئے کہ خلق اور خالق کے نزدیک اہل کرامت ہو جاوے۔" اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے نزدیک بھی اور اللہ کے نزدیک بھی اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کر کے ، عاجزی پیدا کر کے، خود پسندی کو چھوڑ کے انکساری اختیار کر کے ، سخاوت کی عادت پیدا کر کے ، حسد کی عادت کو چھوڑ کر ہمدردی کی عادت پیدا کر کے ایک اہل کرامت ہو جائے۔یہ خوبیاں اختیار کرے اور برائیاں چھوڑے تو یہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے نزدیک بھی اور اللہ کے نزدیک بھی کرامت ہے فرمایا کہ " بہت سے رند اور عیاش ایسے دیکھے گئے ہیں جو کسی خارق عادت نشان کے قائل نہیں ہوئے۔لیکن اخلاقی حالت کو دیکھ کر انہوں نے بھی سر جھکا لیا ہے اور بجز اقرار اور قائل ہونے کے دوسری راہ نہیں ملی۔" پس فرماتے ہیں کہ " بہت سے لوگوں کے سوانح میں اس امر کو پاؤ گے کہ انہوں نے اخلاقی کرامات ہی کو دیکھ کر دین حق کو قبول کر لیا۔" ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 141-142) ایک مجلس میں مسجد میں بیٹھ کے جب آپ یہ فرمارہے تھے تو چند سکھ فقیرانہ لباس میں آئے۔نشہ چڑھا ہو ا تھا ان کو۔وہ بھی اس مجلس میں آگئے۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ انہوں نے آکر ایسی بکواس کی کہ ممکن تھا کہ اس بهشتی مجلس میں بھنگ پڑے۔کچھ بے چینی پیدا ہو جائے۔فرماتے ہیں کہ مگر ہمارے صادق امام علیہ السلام نے اپنے عملی نمونے سے یہ اخلاقی کرامت دکھائی جس کی ہدایت فرما رہے تھے۔جس کا اثر سامعین پر ایسا پڑا کہ اکثر ان میں سے چلا چلا کر فرط جوش سے رو پڑے اور وہ شریر آخر پولیس کے ہاتھ جا کر پیٹے۔اور پولیس نے آکر ان کو پکڑ لیا اور پھر ان کی پٹائی کی جس سے کہتے ہیں ان کا نشہ ہرن ہو گیا۔(ماخوذ از ایڈیٹر۔عبارت حاشیہ ملفوظات جلد اوّل صفحہ 142) پھر ایمان لانے کے مختلف وجوہ کے بارے میں بیان فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ: " فاسق آدمی جو انبیاء کے مقابلہ پر تھے خصوصا وہ لوگ جو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ پر تھے ان کا ایمان لانا معجزات پر منحصر نہ تھا اور نہ معجزات اور خوارق ان کی تسلی کا باعث تھے بلکہ وہ لوگ آنحضرت کے اخلاق فاضلہ کو ہی دیکھ کر آپ کی صداقت کے قائل ہو گئے تھے۔اخلاقی معجزات وہ کام کر سکتے ہیں جو اقتداری معجزات نہیں کر سکتے۔الْاِسْتِقَامَةُ فَوْقَ الْكَرَامَةِ کا یہی مفہوم ہے۔اور تجربہ کر کے دیکھ لو کہ استقامت کیسے کرشمے دکھاتی ہے۔کرامت کی طرف تو چنداں التفات ہی نہیں ہوتا۔خصوصاً آجکل کے زمانے میں۔لیکن اگر پتہ لگ جائے کہ فلاں