خطبات مسرور (جلد 15۔ 2017ء) — Page 269
خطبات مسرور جلد 15 269 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09جون2017 تیسری شرط عزم ہے۔یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کرے گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو خدا تعالیٰ اسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا۔یہانتک کہ وہ سیٹنات اس سے قطع زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر۔" فرمایا کہ " اس پر قوت اور طاقت بخشا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے۔جیسے فرمایا اَنَّ الْقُوَّةَ لِلهِ جَمِيعًا۔(البقرة:166 ) ساری قوتیں اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں اور انسان ضعیف البنیان تو کمزور ہستی ہے۔خُلق الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا (النساء : 29) اس کی حقیقت ہے۔پس خدا تعالیٰ سے قوت پانے کے لئے مندرجہ بالا ہر سہ شرائط کو " یہ جو تینوں شرائط ہیں "کامل کر کے انسان کسل اور ستی کو چھوڑ دے اور ہمہ تن مستعد ہو کر خد اتعالیٰ سے دعا مانگے۔اللہ تعالی تبدیل اخلاق کر دے گا۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 138 تا140) پھر ان برے اخلاق کو چھوڑنے کے لئے جو کوشش کرتا ہے اور جو چھوڑتا ہے اس کی ایک بہادر سے مثال دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ "ہماری جماعت میں شہ زور اور پہلوانوں کی طاقت رکھنے والے مطلوب نہیں۔" کوئی پہلوان نہیں ہمیں چاہئیں " بلکہ ایسی قوت رکھنے والے مطلوب ہیں " ایسی طاقت رکھنے والے لوگ چاہئیں " جو تبدیل اخلاق کے لئے کوشش کرنے والے ہوں۔یہ ایک امر واقعی ہے کہ وہ شہ زور اور طاقت والا نہیں جو پہاڑ کو جگہ سے ہٹا سکے۔" طاقتور وہ نہیں ہے جو کسی پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹا دے فرمایا کہ " اصلی بہادر وہ ہے جو تبدیل اخلاق پر مقدرت پاوے۔پس یا درکھو کہ ساری ہمت اور قوت تبدیل اخلاق میں صرف کرو کیونکہ یہی حقیقی قوت اور دلیری ہے۔" پھر آپ فرماتے ہیں کہ : " اخلاقی حالت ایک ایسی کرامت ہے جس پر کوئی انگلی نہیں رکھ سکتا اور یہی وجہ ہے کہ ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے بڑا اور قوی اعجاز اخلاق ہی کا دیا گیا۔جیسے فرما یا انكَ لَعَلیٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ۔(القلم:5) یوں تو آنحضرت صلعم کے ہر ایک قسم کے خوارق قوت ثبوت میں جملہ انبیاء السلام کے معجزات سے بجائے خود بڑھے ہوئے ہیں مگر آپ کے اخلاقی اعجاز کا نمبر ان سب سے اوّل ہے جس کی نظیر دنیا کی تاریخ نہیں بتلا سکتی اور نہ پیش کر سکے گی۔" (ملفوظات جلد اوّل صفحہ 140) علیہم آپ فرماتے ہیں: "میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو اپنے اخلاق سیٹہ کو چھوڑ کر عادات ذمیمہ کو ترک کر کے خصائل حسنہ کو لیتا ہے " برائیاں چھوڑ کر نیکیاں اختیار کرتا ہے " اس کے لئے وہی کرامت ہے۔مثلاً اگر بہت ہی سخت تند مزاج اور غصہ ور ان عادات بد کو چھوڑتا ہے اور حلم اور عفو کو اختیار کرتا ہے یا امساک کو چھوڑ کر سخاوت اور حسد کی بجائے ہمدردی حاصل کرتا ہے تو بے شک یہ کرامت ہے۔اور ایسا ہی خودستائی اور خود پسندی کو چھوڑ کر